’مونگ پھلی سے الرجی کا علاج‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption نئی تحقیق میں محققین کا کہنا ہے کہ الرجی سے ’مستقل‘ بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے

ابتدائی عمر میں مونگ پھلی سے تیار کردہ مصنوعات کے استعمال سے الرجی کا شکار ہونے کے خطرے میں کمی کی توثیق ایک نئی تحقیق نے کی ہے۔

سنہ 2015 میں ایک سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ بچوں کو چھوٹی عمر میں مونگ پھلیاں کھلانے سے اس سے ہونے والی الرجی سے 80 فیصد تک بچنے کا امکان ہوتا ہے۔

نئی تحقیق میں محققین کا کہنا ہے کہ الرجی سے ’مستقل‘ بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے۔

نئی انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی تحقیق میں 550 ایسے بچوں کا معائنہ کیا جن میں مونگ پھلی سے الرجی پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔

حالیہ تحقیق نے بھی سنہ 2015 میں ہونے والی تحقیق پر اپنے نتائج قائم کیے ہیں، جو کنگز کالج لندن نے کی تھی اور پہلی بار سائنسدانوں کی توجہ اس جانب دلائی تھی کہ بچوں کو مونگ پھلی کے سنیکس یا دیگر تیار کردہ اشیا محدود مقدار میں دینے سے ان میں الرجی پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق اگر ایک بچہ اپنی پیدائش سے 11 ماہ کی عمر تک مونگ پھلی سے تیارکردہ سنیکس کھاتا ہے اور پانچ سال کی عمر میں وہ یہ غذا ایک سال کے لیے چھوڑ دیتا ہے، تو اس میں الرجی پیدا نہیں ہوگی۔

تحقیق کے مصنف پروفیسر گیڈیون لیک کا کہنا ہے کہ ’(تحقیق) سے واضح ہوتا ہے کہ بیشتر شیرخوار بچے محفوظ رہتے ہیں اور یہ تحفظ مستقل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ ’غذا سے خوف کے ماحول‘ میں رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’میرے خیال میں یہ غذا سے الرجی کا خوف ہے جو خودساختہ طور پیدا کردہ ہے، چونکہ غذا کو خوراک سے نکال دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچہ برداشت پیدا نہیں کر سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پروفیسر لیک کا کہنا ہے کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ ’غذا سے خوف کے ماحول‘ میں رہے ہیں

محققین نے سنہ 2015 کی تحقیق میں شامل بچوں کو ہی استعمال کیا۔ اس میں سے نصف کو مونگ پھلی کے سنیکس دیے گئے اور دیگر کی غذا صرف ماں کا دودھ تھی۔

محققین کا کہنا ہے کہ ’تحقیق سے علم ہوا ہے کہ چھ سال کی عمر میں، 12 مہینے کے تعطل کے بعد بھی عددی اعتبار سے الرجی میں اضافہ نہیں ہوا ہے، ان بچوں میں جنھوں نے (2015 کے) تجربے میں مونگ پھلیاں کھائی تھیں۔‘

تحقیق میں ان بچوں کو شامل کیا گیا تھا جنھیں مونگ پھلی کی الرجی کا خطرہ تھا اور ان کی جلد پر خارش جیسی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوچکی تھیں۔

پروفیسر لیک کے مطابق اب اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا ایسا 12 ماہ سے زائد عرصے تک بھی رہ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ میں 20 ہزار بچے سالانہ مونگ پھلیوں سے ہونے والی الرجی کا شکار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں