انسان بمقابلہ مشین: چوتھے میچ میں بالاخر انسان فاتح

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کامیابی کے بعد لی سے ڈول نے کہا کہ انھیں زیادہ مبارکباد نہیں دی گئی کیونکہ انھوں نے ایک میچ جیتا ہے

’گو‘ نامی کھیل کے ماہر کھلاڑی لی سے- ڈول نے گوگل کے کمپیوٹر پروگرام سے لگاتار تین مقابلے ہارنے کے بعد پہلی مرتبہ اس کھیل میں مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کے خلاف فتح حاصل کی ہے۔

جنوبی کوریا میں انسان اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے درمیان پانچ میچوں کی اس ’تاریخی جنگ‘ میں دنیا بھر میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔

اپنی اس جیت پر لی سے ڈول کا کہنا تھا کہ ’الفا گو‘ کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ’انمول‘ ہے۔

’گو‘ نامی چینی بورڈ گیم شطرنج کے مقابلے میں کمپیوٹر کے لیے مشکل سمجھی جاتی ہے لیکن الفا گو کی فتوحات مصنوعی ذہانت کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ان مقابلوں کے سلسلے کا پانچواں میچ منگل کو کھیلا جائے گا۔

اس مقابلے کے مبصر مائیکل ریڈمنڈ کا کہنا ہے کہ الفا گو میچ کے درمیانی حصے تک اچھا کھیل پیش کر رہا تھا لیکن 78ویں چال میں لی سے ڈول نے عمدہ کھیلا۔

اپنی کامیابی کے بعد لی سے ڈول نے کہا کہ ’مجھے زیادہ مبارکباد نہیں دی گئی ہے کیونکہ میں نے ایک میچ جیتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other

اس موقع پر گوگل کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ الفا گو کے لیے یہ شکست ’کافی اہم ہے‘ کیونکہ اس سے ایک ایسے مسئلے کی شناخت ہوئی ہے جسے وہ ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے قبل اکتوبر سنہ 2015 میں ہونے والے مقابلے میں الفاگو نے یورپی گو چیمپیئن کو شکست دی تھی اور یہ ایک ایسا کارنامہ تھا جس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

سنہ 1997 میں ڈیپ بلو نامی ایک کمپیوٹر پروگرام نے شطرنج کے عالمی چیمپیئن گیری کاسپاروف کو ہرا دیا تھا، لیکن چینی گیم گو شطرنج سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

گوگل کے الفاگو کو برطانوی کمپیوٹر کمپنی ڈیپ مائنڈ نے تیار کیا ہے جسے گوگل نے سنہ 2014 میں خریدا تھا۔

ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیمس ہیسابس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ اپنی خامیوں سے سبق سیکھتا ہے‘ اور اب یہ پہلے کے سپر کمپیوٹر سے زیادہ مضبوط ہے جس نے یورپی چیمپیئن کو شکست دی تھی۔

اسی بارے میں