اسلامی سنگ تراشی سے ماخوذ نئے ’میٹا میٹیریئلز‘

تصویر کے کاپی رائٹ A. Rafsanjani
Image caption میٹا مٹیریلز ایسا مادہ ہوتا ہے جسے مصنوعی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور اس میں پائی جانے والی خصوصیات قدرتی نہیں ہوتیں

ماہرین نے اسلامی نقاشی و سنگ تراشی کے فن میں پائے جانے والے پیچیدہ اور تکراریت پزیر نمونوں سے متاثر ہو کے ’میٹا میٹیریئلز‘ کی ایک نئی قسم تیار کی ہے۔

میٹا میٹیریئل ایسا مادہ ہوتا ہے جسے مصنوعی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور اس میں پائی جانے والی خصوصیات قدرتی نہیں ہوتیں۔

مثال کے طور پر جب اسے کھینچا جاتا ہے تو یہ صرف لمبا اور پتلا ہونے کے بجائے چوڑائی میں بھی بڑھتا ہے۔

کینیڈا کی ایک ٹیم نے سوراخوں والی ربر کی چادریں اسی مقصد کے لیے تیار کی ہیں، ان چادروں کی خصوصیت یہ ہے کہ جب تک انہیں ان کی اصل حالت میں واپس نہ لایا جائے یہ پھیلی ہوئی شکل میں قائم رہتی ہیں۔

ان نمونوں کو پھیلنے والے ’سٹنٹ‘ (دل کی کمزور یا سکڑی ہوئی شریانوں کی شکل برقرار رکھنے والا آلہ) اور خلائی جہاز کے پُرزوں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کینیڈا کے شہر مونٹریال کی مک گِل یونیورسٹی کے ڈاکٹر احمد رفسنجانی کہتے ہیں ’روایتی مادوں میں جب آپ انھیں ایک سمت میں کھینچتے ہیں تو دوسری سمت سے وہ سکڑ جاتے ہیں۔ جبکہ ’آگزیٹک‘ (کھینچنے کی صورت میں عمودی سمت میں بڑھنے والے) مادے میں اس کی اندرونی ساخت کے باعث یہ خصوصیت ہے کہ جب آپ اسے ایک سمت میں کھینچتے ہیں تو وہ پہلو کی سمت سے بھی جسامت میں پھیل جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر رفسنجانی امریکن فزیکل سوسائٹی میں مارچ میں ہونے والی ایک میٹنگ کے سلسلے میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے جس میں یہ تحقیق پیش کی جائے گی۔

اس ’آگزیٹی سٹی‘ خصوصیت کے نئے مادے کی تیاری کی کوشش کے دوران ڈاکٹر رفسنجانی کو ایران میں پائے جانے والےایک ہزار برس قبل کے مزاروں کے ستون پر کی گئی سنگ تراشی نے متاثر کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’جب آپ اسلامی نقوش کو دیکھتے ہیں تو آپ کو جیومیٹریز کی بہت بڑی لائبریری مل جاتی ہے۔ان دو ستونوں کی دیواروں پر آپ کو 70 مختلف طرز تعمیر کے ٹیسیلیشن (ٹائلوں یا سلوں کے زریعے بنائے گئے جیومیٹریکل ڈیزائن)، اور خم دار شکلوں کے نمونے بنے ہوئے نظر آئیں گے۔‘

Image caption ان نمونوں کو وسعت پزیر سٹنٹ (کمزور یا سکڑی ہوئی شریانوں کی شکل برقرار رکھنے والا آلہ) اور خلائی جہاز کے پُرزوں کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے

ان نمونوں میں سے دو میں غیر معمولی خصوصیات پائی گئی ہیں۔

ڈاکٹر رفسنجانی نے ان نمونوں کی نقل ربر اور لیزر کٹر کی مدد سے سادہ شکل میں تیار کی۔ ان نمونوں سے مزیّن آگزیٹک چادریں کھینچنے کی صورت میں نہ صرف تمام سمت میں پھیل رہی تھیں بلکہ اپنی اصل شکل میں بآسانی واپس بھی آجاتی تھیں، اور ان کے ساتھ بہت سہل طریقے سے یہ عمل بار بار دہرایا جاسکتا تھا۔

ڈاکٹر رفسنجانی بتاتے ہیں کہ مادوں میں ’مکرر قیام پذیری‘ کی خصوصیت کا پایا جانا غیر معمولی بات ہے۔ اس کی محض چند مثالیں ملتی ہیں اور وہ زیادہ تر اوری گامی (کاغذ کی تہوں کے ذریعے اشکال و اجسام بنانے کا فن) تکنیک میں استعمال کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان نمونوں کو تیار کرنا بہت آسان ہے، آپ کو صرف ایک لیزر کٹر کی ضرورت ہوگی۔ لیزر کی ریزولیشن پر منحصر ہے کہ آپ ان نمونوں کو کتنی چھوٹی جسامت میں تیار کرلیں، حتیٰ کہ اسے مائیکرو پیمانے پر بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔

’اس ہی طرح شمسی پینلز اور سیٹیلائٹ کے پُرزوں میں استعمال میں لانے کے لیے آپ ان کی جسامت بڑھا بھی سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر رفسنجانی اور ان کی ٹیم کے افراد اس چادر کی خصوصیات میں تبدیلی پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔ مثال کے طور پر نمونوں کی بنیادی شکل کو عمودی سے خم دار میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر رفسنجانی کہتے ہیں ’ہم اس گھومنے والے آگزیٹک مادے کے لیے ایسا ڈھانچہ تیار کرنا چاہتے تھے کہ جب ہم اسے کھینچیں اور یہ پھیلے تو یہ اس صورت میں اپنی شکل برقرار رکھ سکے۔‘