ایرانی ’باٹ‘ آرمی کی لگام کس کے ہاتھ؟

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption ٹویٹ کی گئی ان تمام تصاویر میں ان پر لگا لوگو مشترک ہے

ٹوئٹر اکاؤنٹس کا ایک گروہ بظاہر انگریزی زبان جاننے والے لوگوں تک ایرانی پروپگینڈا پہنچانے کا کام کر رہا ہے لیکن اس کے پیچھے سرگرم افراد اور ان کا حقیقی محرک پہیلی سے کم نہیں ہے۔

ٹوئٹر کے درجنوں اکاؤنٹس سے ہر چند منٹ کے بعد powerful_iran# کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک ٹویٹ کی جاتی ہے جو ان کے ہزاروں فالوورز دیکھتے ہیں۔

ایران میں تبدیلی کی حیران کن ہوا

ان اکاؤنٹس کی پروفائل کی تصاویر ہالی وڈ اداکاروں کی یا انٹرنیٹ سے اٹھائی گئی ہیں، لیکن ان کی جانب سے کی گئی تقریباً ہر ٹویٹ میں ایران فوجی آلات کی تصاویر ہوتی ہیں جن کے ساتھ بےترتیب اور غیر متعلقہ ہیش ٹیگز ہوتے ہیں۔

ٹویٹ کی گئی ان تمام تصاویر میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے ایک لوگو جس میں ایک فاختہ ہے اور اس کی کمر پر موجود بندوق کی نال پر ایرانی جھنڈا لہرا رہا ہے۔ ہر ٹویٹ میں powerful_iran# کا ہیش ٹیگ ہوتا ہے جو انگریزی، عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں ہوتاہے۔

تو اس ایرانی باٹ آرمی کے پیچھے ہے کون؟

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ باٹ ہوتا کیا ہے۔ یہ ایک ایسا خودکار کمپیوٹر سافٹ ویئر جو انٹرنیٹ پر جا کر دوسرے کمپیوٹر نظاموں یا انسانوں کے ساتھ رابطہ کر سکتا ہے۔

بی بی سی ٹرینڈنگ نے اس لوگو، ٹوئٹر اکاؤنٹ اور گوگل پروفائل کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ ان اکاؤنٹس پر بہت کم معلومات درج ہیں اور انھیں بھیجے گئے پیغامات کا کوئی جواب نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس باٹ آرمی کی تحریک اور اسے چلانے والوں کے بارے میں بہت کم سراغ ملے ہیں۔ یہ ٹویٹس انگریزی زبان میں ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ ان ٹویٹس کا ہدف مغربی صارفین ہیں۔ جبکہ ’Poweful_Iran‘ کے ساتھ استعمال ہونے والے ہیش ٹیگز میں مختلف نام شامل ہوتے ہیں جن میں ممالک، میڈیا آؤٹ لیٹس، سیاسی نعرے اور دیگر مسائل کا ذکر ہوتا ہے۔

ان ٹویٹس میں ’@‘ کے ساتھ کسی اکاؤنٹ کو مخاطب نہیں کیا گیا جس کا مقصد کسی دوسری صارف کی توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔

جنگوں سے متعلق بلاگ لکھنے والے سلامتی اور انٹیلیجنس کے ماہر جان لٹل کا کہنا ہے کہ ’بظاہر اس مہم میں امریکی حکومت (#FBI #CIA )، اسرائیل، سعودی عرب، اور بعض قدامت پسند امریکی ہیش ٹیگز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ‘

’اس سے تو بعض مقبول ہیش ٹیگز جیسے کہ #GreaseLive سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔‘

اس کا جو بھی مقصد ہو بہرحال یہ مہم اپنہ مقصد کے حصول سے بہت دور ہے۔

جان لٹل کا مزید کہنا تھا کہ ’تاثر چھوڑنے کے معاملے میں یہ مہم ایک بدترین ناکامی ہے۔ اس کی تقریباً سبھی ٹویٹس توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور ان پر نہ تو پسندیدگی کا اظہار کیا گیا اور نہ یہ ری ٹویٹ کی گئیں۔ جو چند ردِ عمل نظر آئے وہ بھی جعلی دکھائی دیتے ہیں۔‘

’درحقیقت ان کی جانب سے کی گئی مقبول ٹویٹس کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا ہے ان میں سے بیشتر میں نے ہی ٹویٹ کی تھیں تاکہ اس مہم کو بے نقاب کیا جا سکے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twiiter

لٹل کے مطابق یہ ٹویٹس ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے رجحانات سے مطابقت رکھتی ہیں جیسے کہ اسرائیل کو تباہ کرنا، خلیج فارس میں سمندری ٹریفک کو روکنا، اور یہ کہنا کہ سعودی عرب اور اسرائیل ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ مغربی ٹوئٹر صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایران سے ایک منظم مہم چلائی گئی ہو۔ گذشتہ برس ایرانی کے رہبرِ اعلیٰ کی جانب سے مغربی نوجوانوں کے لیے ایک کھلے خط کے بعد ایسے ہی باٹ اکاؤنٹس سے ’Letter4u‘کا ہیش ٹیگ استعمال ہوا تھا۔

ایک اور بلاگر مورگن کارلسٹن کا کہنا ہے کہ ’دونوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں لیکن ٹوئٹر پر خط سے متعلق مہم اس طاقتور ایران سے متعلق مہم کی نسبت زیادہ بڑے پیمانے پر تھی۔‘

اس میں بھی اکاؤنٹس کا ایک گروپ تھا جس میں مشہور شخصیات کی تصاویر اور بےترتیب ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کارلسٹن کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ اس باٹ کے پیچھے ایرانی حکومت ہو تاہم وہ پوری طرح سے اس پر قائل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایرانی ریاست میں بہت سی چیزیں تہہ در تہہ ہیں۔ جہاں کس درجے کی اور کتنی اعلیٰ سطح پر احکامات جاری کیے جاتے ہیں اس بارے میں کچھ بھی یقینی طور پر کہنا ممکن نہیں۔‘

ایک خیال یہ بھی ہے کہ ’طاقتور ایران‘ کے اس ہیش ٹیگ نے ایران اور مغرب میں ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد زور پکڑا جس کی ایران کی سخت گیر موقف رکھنے والے حلقے مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں اس کی وجہ سے مغربی ممالک کو فوقیت حاصل ہو جائے گی۔

اس معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی نگرانوں کو ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت حاصل ہوئی اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام کا خاتمہ ہوا۔

اسی بارے میں