بچوں میں ٹیومر کے علاج کے لیےنئے ٹیسٹ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

برطانیہ میں سائنسدان نے بچوں میں ٹیومر کےعلاج کے لیے ایک نئے طریقہِ علاج کے لیے ٹیسٹ شروع کر دیئے ہیں۔

سائنسدان اس تجربے کو بچوں میں ٹیومر کے علاج کے لیے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس طریقہ علاج کے ذریعے بچوں میں ٹیومر کا علاج آسان ہو جائےگا اور جسم کے مخصوص حصے کو ہی نشانہ بنا کر علاج ممکن ہو سکے گا۔

خوش قسمتی سے بچوں میں کینسر کا مرض بہت کم ہے اور اسی وجہ اس دوا کے کلنیکل ٹرائل ہونا ممکن نہیں۔

ڈاکٹروں نے ایک ایسے طریقہ علاج کا سہارا لیا ہے جس کے ذریعے ٹیومر سے متاثرہ حصے کو براہ راست نشانہ بنا کر اس کا علاج کیا جا سکے گا۔

اس نئے طریقہ علاج کے تحت اگلے دو برسوں میں چار سو بچوں کے خلیوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

اس تجزیے سے انسٹیٹوٹ آف کینسر ریسرچ کو مطلع کیا جائے کہ ان بچوں کے جسموں میں کیا تبدیلیاں ہو رہی ہیں جن سے کینسر کا ٹیومر جنم لے سکتا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس طریقہ علاج کے ذریعے ڈاکٹر مریض کے جسم کے متاثرہ حصے کو ٹارگٹ کر کے ان کا علاج کر سکیں گے اور وہ روایتی علاج یعنی کیموتھراپی کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے۔

اسی بارے میں