وٹس ایپ : پیغامات بھیجتے وقت مکمل پرائیویسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیس بک کی ملکیت کی اس کمپنی نے کہا ہے کہ ذاتی روابط کی حفاظت کرنا ان کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے

فوری طور پر پیغام بھیجنے والی سروس ’وٹس ایپ‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے دن سے صارفین کی بات چیت کو اِنکرپٹ کرنا شروع کر دیں گے۔

اس نظام میں بھیجنے والے اور موصول کرنے والے دونوں کی طرف اِنکرپشن کی جائے گی جس کا مطلب ہے کہ بھیجنے والے کا پیغام گڈمڈ ہو گا اور یہ موصول ہونے والے کو صرف اسی وقت سمجھ آئے گا جب وہ اس پیغام کو ڈی کرپٹ کرے گا۔

اگر اس پیغام کو کوئی اور پڑھنے کی کوشش کرے گا مثلاً کوئی مجرم یا کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ، تو وہ نہیں پڑھ پائے گا۔ وٹس ایپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی فائل ٹرانسفرز اور کالز بھی اِنکرپٹڈ ہوں گی۔

فیس بک کی ملکیت والی اس کمپنی نے کہا ہے کہ ذاتی روابط کی حفاظت ان کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔

انکرپشن پر اس وقت توجہ مرکوز ہوئی جب امریکی ادارے ایف بی آئی نے ایپل کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلح شخص سید فاروق کے آئی فون کو کو کھولنے میں مدد دے۔ ایپل نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جن صارفین کے پاس اس ایپ کا بالکل نیا ورژن موجود ہے، ان کے پاس منگل ہی کو یہ خبر پہنچ گئی تھی۔ یہ سیٹنگ خود بخود ہی انسٹال ہو جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ آزادیِ اظہار کی فتح ہے۔ ’یہ آزادیِ اظہار کی فتح ہے، خاص طور پر ان سرگرم کارکنوں اور صحافیوں کے لیے جن کے کام کا انحصار قابل اعتماد ذرائع ابلاغ پر ہے۔ اب وہ اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے بغیر کام کر سکیں گے۔‘

سکیورٹی کے تحقیق کار لی منسن کا کہنا تھا: ’وٹس ایپ کا یہ اقدام محفوظ ذرائعِ ابلاغ کی فتح ہے۔‘

اسی بارے میں