ڈرائیوروں کی ناقص پڑتال، اوبر کو ایک کروڑ ڈالر جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Fernanda Carvalho Fotos Pblicas
Image caption اوبر مختلف معلومات کے زریعے ڈرائورز کی پچھلے سات سال کی معلومات استعمال کرتی ہے

ٹیکسی کمپنی ’اوبر‘ کو ڈرائیوروں ناقص جانچ پڑتال پر امریکہ میں ایک کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اوبر کا کہنا ہے کہ وہ جرمانے کی رقم ادا کرنے پر رضا مند ہے۔

اوبر کو جرمانے کی رقم میں دو ماہ کے اندر اندر ادا کرنی ہے۔

ٹیکسی کمپنی اوبر کے خلاف 2014 میں قانونی چارہ جوئی اس وقت شروع ہوئی جب انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ڈرائیوروں کی پڑتال مقامی ٹیکسی کمپنیوں کی نسبت زیادہ سختی سے کرتے ہیں۔

لیکن سان فرانسیسکو اور لاس اینجلیس کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ گمراہ کن تھا۔ اوبر نے روایتی کمپنیوں کے طریقے کو نہیں اپنایا جس میں انگلیوں کے نشانات کی مدد سے پولیس کے ریکارڈ کو چانچا جا سکتا ہے

اوبر کا کہنا ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے ڈرائیوروں کی گذشتہ سات برسوں کی معلومات نکال کر اُن کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس فیصلے کے تحت اوبر اب اپنے اشتہار میں یہ نہیں لکھ سکے گی کہ ’یہ سواری سب سے زیادہ محفوظ ہے۔‘

بی بی سی کو یہ معلوم ہوا ہے کہ اوبر نے اب بھی بائیو میٹرک جانچ پڑتال کو اپنے نظام میں شامل نہیں کیا ہے۔

اوبر نے یہ کہا کہ کوئی بھی کمپنی 100 فیصد جانچ پڑتال نہیں کر سکتی۔

سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ اوبر نے قتل کے مجرم، جنسی زیادتی اور دیگر جرم میں ملوث 25 افراد کو لائسنس دے دیا تھا۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہر قسم کے واقعات اور حادثے ہوتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ ہم اپنے اشتہار میں تحفظ کے حوالے سے کس قسم کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ زبان شفاف ہونی چاہیے اس لیے سیف رائیڈ فیس کے بجائے اب بوکنگ فیس کا لفظ استعمال ہوا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم اس کیس سے آگے بڑھ کر اب اپنی کوششوں کو مزید بہتر بنائیں گے اور اب کیلیفورنیا میں بھی یہ سروس شروع کر دی جائی گا‘۔

اوبر ٹیکسی سروس کو ابھی صرف کیلیفورنیا کے ہوائی اڈے پر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کمپنی نے طے شدہ معاہدے کی پابندی نہیں کی تو پھر اُسے آئندہ دو برسوں میں مزید ڈیڑھ کروڑ ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔

اسی بارے میں