ستاروں پر پہنچنے کا منصوبہ

Image caption یہ خلائی جہاز بادبانوں کی مدد سے خلا میں سفر کریں گے

معروف سائنس دان سٹیون ہاکنگ ایک ایسے منصوبےکی سر پرستی کر رہے ہیں جس میں انتہائی چھوٹے خلائی جہازوں کو دوسرے ستاروں کی دنیا میں بھیجا جا سکے گا۔

ان ننھے خلائی جہازوں میں کھربوں میل دور جانے کی صلاحیت ہو گی جو اس سے قبل بنائے گئے جہازوں کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔

دس کروڑ ڈالر کی لاگت کے اس تحقیقی منصوبے میں کمپیوٹر چپ کے برابر’خلائی جہاز‘ تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی مالی امداد ارب پتی شخص یوری ملنیر کر رہے ہیں جس کو فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ستاروں کی دنیاؤں تک سفر کرنا ہمیشہ سے انسانوں ایک خواب رہا ہے لیکن مناسب ٹیکنالوجی کی غیر موجودگی ان کے خوابوں کی تکمیل میں رکاوٹ بنی رہی ہے۔

لیکن پروفیسر ہاکنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خواہش ہمارے تصور سے بھی کہیں جلدی پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم بنی نوع انسان کی بقا چاہتے ہیں تو ہمیں بالآخر کہکشاؤں تک جانا ہی ہو گا۔‘

’خلا بازوں کے مطابق اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ الفا سینٹوری نظام میں کہیں کسی ایک ستارے کے گرد زمین کی طرح کا سیارہ گردش کر رہا ہے۔ لیکن اگلی دو دہائیوں میں ہم زمین اور خلا میں لگائی گئی دوربینوں کی مدد سے مزید معلومات حاصل کر سکیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ دو دہائیوں میں ٹیکنالوجی میں حاصل کی گئی ترقی سے مسقبل میں ایسا ممکن ہو سکے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دوسرے ستاروں تک پہنچنے کی کاوش ہو رہی ہے

پروفیسر ہاکنگ ملنر کی بریک تھرو فاؤنڈیشن کے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک نجی ادارہ ہے اور ان سائنسی تحقیقی منصوبوں میں مزید پیسہ لگاتا ہے جس کے بارے میں سرکاری عطیہ کنندگان بہت پرامید ہوتے ہیں۔

اس ادارے نے سائنس دانوں کے ایک ماہرگروپ کو جمع کیا تاکہ وہ یہ اندازہ لگا سکیں کہ کیا ایسے خلائی جہاز بنانا ممکن ہے جو ستاروں تک جانے کے قابل ہوں اور وہاں سے معلومات واپس زمین تک بھیجنے کی صلاحیت بھی ر کھتے ہوں۔

کائنات میں قریب ترین نظامِ شمسی ہم سے تقریبًا 40 کھرب کلومیٹر دور ہے، اور موجودہ ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اس نظام تک پہنچنےمیں تقریباً 30 ہزار سال لگیں گے۔

غورو خوض کے بعد ماہرین کا گروپ اس نتیجے پر پہنچا کہ ذرا سی مزید تحقیق اور کام کے بعد ایسا ممکن ہے کہ ایسا خلائی جہاز تیار کر لیا جائے جو اس سفر کی طوالت کو کم کر کے محض 30 سال کر دے۔

بریک تھرو پرائز فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور کیلیفورنیا میں واقع ناسا کے امیس ریسرچ سینٹر کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر پیٹے وورڈن جو اس منصوبے کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ’کچھ ہی سال قبل اس رفتار کے ساتھ ستاروں تک پہنچےکا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ لیکن ماہرین کےگروپ نے اندازہ لگایا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے اس نظریے کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔‘

اس نظریے کے تحت خلائی جہاز کے سائز کو الیکٹرانک آلات میں استعمال کی جانے والی چپ جتنا کرنا اور پھر ان ننھے خلائی جہازوں کو ہزاروں کی تعداد میں زمین کے مدار میں چھوڑنا ہے۔

ہرخلائی جہاز کے ساتھ ایک شمسی بادبان منسلک ہوگا جو ہوا کی بجائے روشنی کی لہروں کی مدد سے آگے بڑھے گا۔ اس کے علاوہ زمین سے ایک بہت بڑی تعداد میں لیزر شعاعیں ہرخلائی جہازوں کو آگے بڑھنے کے لیے زور دار دھکہ دیں گی جس کے بعد وہ اپنا باقی سفر روشنی کی رفتار کی 20 فیصد رفتار کے ساتھ طے کریں گے۔

یہ پورا منصوبہ ایک سائنس فکشن کی طرح لگتا ہے، لیکن یوری ملر کو یقین ہے کہ تکنیکی اعتبار سے ایسے خلائی جہازوں کی تیاری ممکن ہے جنھیں ہم اپنی زندگی ہی میں ستاروں تک بھیجنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBCRichardAnsett
Image caption پروفیسر سٹیون ہاکنگ کا خیال ہے کہ انسان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ زمین کے علاوہ دوسرے جہان بھی تلاش کرے

وہ کہتے ہیں کہ ’55 سال قبل یوری گیگارین کا خلا میں پہنچنا انسان کی ایک بڑی چھلانگ تھی اور آج ہم ستاروں میں داخل ہو کر دوسری بڑی چھلانگ لگانے جا رہے ہیں۔‘

پہلے خلائی جہازوں کو ستاروں تک بھیجنے سے قبل کئی مشکلات پر قابو پانا ہو گا۔ جس میں ان مائیکرو چپ جتنے جہازوں میں چھوٹے چھوٹے کیمروں اور حساس آلات کی تنصیب، ایک مضبوط شمسی بادبان کی تیاری جو فضا میں بلند ہونے سے قبل کئی منٹ تک لیزر کے جھٹکوں کو برداشت کرسکے، اور روشنی کی رفتار پر راستہ تلاش کرتے ہوئے ستاروں تک پہنچے اور وہاں سے تصاویر اور معلومات زمین پر واپس بھیجے۔

اس تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے سرے سپیس سینٹر کے تحقیق کار اور گلڈ فورڈ میں سرے سٹیلائٹ ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر مارٹن سویٹنگ نے بی بی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’80 کی دہائی میں ہم نے جو کچھ کیا اسے لوگ کہتے تھے کہ وہ احمقانہ تھا لیکن اب چھوٹے سٹیلائٹ کا بنانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ ستاروں تک جانے کا منصوبہ فی الحال تو ایک بھونڈا خیال لگتا ہے لیکن ٹیکنالوجی نے کافی ترقی کر لی ہے اب ایسا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔‘

ملرڈ سپیس سائنس لیبارٹری سے تعلق رکھنے والے پروفیسر اینڈریو کوٹس اس بات سے متفق ہیں کہ اس منصوبے پر عمل در آمد مشکل ضرور ہو گا لیکن ناممکن نہیں۔

’ان خلائی جہازوں کو بھیجنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہو گا جن میں ان کو خلا کی ریڈیائی لہروں اور دھول سے حفاظت، ان کی حساسیت کو برقرار رکھنا، زمین سے جانے والی لیزر شعاعوں سے ان کا تعلق قائم رکھنا، اور جہازوں کے استحکام کے لیے مستقل قوت کی فراہمی جاری رکھنا شامل ہیں۔

’لیکن یہ خیال اس لیے اہم ہے کہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں کیا واقعی ہم اپنی اس زندگی میں ستاروں پر چلے جائیں گے۔‘

لیکن پروفیسر ہاکنگ کو یقین ہے کہ پہلے یہ محض ایک تصور تھا لیکن اگلے 30 سالوں میں یہ خواب حقیقت بن جائے گا۔

انھوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انسان نے ستاروں تک جانے کی خواہش سے زیادہ اونچی کوئی چیز نہیں مانگی۔‘

’اپنے تمام انڈے ایک کمزور ٹوکری میں رکھنا بیوقوفی ہے۔ اور زمین پر زندگی گزارنا بھی ایسا ہی ہے کیونکہ زمین کئی خطرات سے پر ہے جن میں فلکیاتی حادثات بھی شامل ہیں۔‘

اسی بارے میں