شاہی تتلیوں کے طویل سفر کا راز کھل گیا

Image caption شاہی تتلیاں، کیڑوں کی وہ واحد قسم ہے جو اتنا وسیع فاصلہ طے کر سکتی ہیں

سائنس دانوں نے ایک ایسا ماڈل تشکیل دیا ہے جس کی مدد سے طویل سفر کرنے والی شاہی تتلیوں کا راز معلوم کر لیا گیا ہے۔

شاہی تتلیاں، کیڑوں کی وہ واحد قسم ہے جو کہ اتنا وسیع فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔

ماہرینِ حیاتیات اور ریاضیات کی ٹیموں نے مل کر ایک ایسے قطب نما پر کام کیا جو ان تتلیوں کے سفر کی آمد و رفت کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے ’سیل رپورٹس‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔

اس تحقیق کی رہنمائی کرنے والے محقق پروفیسر ایلی شلزیرمین کا تعلق واشنگٹن یونیورسٹی سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ماہرِ ریاضیات کی حیثیت سے وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح نیورو بایولاجیکل سسٹم آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور ان سے سائنس دان کون سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’شاہی تتلیاں اپنا سفر پہلے سے مقرر کردہ اور تیز ترین راستے کے ذریعے کرتی ہیں۔ وہ دو ماہ کے سفر کے بعد مرکزی میکسیکو میں ایک خاص جگہ پہنچتی ہیں، وہ ایسا کم سے کم توانائی اور اشاروں کی مدد سے کرتی ہیں۔‘

پروفیسر شلزیرمین نے اپنے ساتھی اور میساچوسیٹس یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ حیاتیات سٹیون ریپرٹ کے ساتھ مل کر ان تتلیوں کی آنکھوں اور اینٹینا سے نکلنے والے نیورانز (عصبی خلیے) کا معائنہ کا۔

پروفیسر شلزیرمین بتاتے ہیں کہ انھوں نے ان تتلیوں کو ملنے والے اشاروں کی نشاندہی کی جس سے انھیں پتہ چلا کہ یہ ان اشاروں کے لیے سورج پر انحصار کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ credit superstock Alam
Image caption ’شاہی تتلیاں اپنا سفر پہلے سے مقرر کردہ اور تیز ترین راستے کے ذریعے کرتی ہیں‘

وہ بتاتے ہیں: ’ان اشاروں میں سے ایک وہ ہے جو سورج کے افقی زاویے کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسرا وہ جو انھیں دن کا وقت بتاتا ہے۔ ان سے ان تتلیوں کو ایک ایسا قطب نما مل جاتا ہے جس سے وہ دن بھر شمال کی طرف سفر کر پاتی ہیں۔‘

اس قطب نما سے ملنے والے اشاروں کی نشاندہی کے بعد پروفیسر شلزیرمین نے ایک ایسا ماڈل بنایا جو بالکل تتلیوں کے اینٹینا کی طرح کام کرتا ہے۔

یہ ماڈل انہی اینٹینا کی طرح دو حصوں پر مشتمل ہے، پہلا کلاک یعنی گھڑی، یہ وقت بتاتا ہے۔ اور دوسرا جو سورج کی پوزیشن کی نشاندہی کرتا ہے۔

پروفیسر شلزیرمین بتاتے ہیں کہ اس ماڈل میں موجود سرکٹ ان دونوں اشاروں کو آپس میں ملا کر انھیں کنٹرول کرتا ہے اور سسٹم کو بتاتا ہے کہ وہ صحیع سمت میں جا رہے ہیں یا نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ بہت دلچسپ ہے۔ اس سے ہمیں ان اشاروں کے ملاپ سے ان کے رویے پر پڑنے والے اثرات کا پتہ چلتا ہے۔ ہم ان تصورات کے ذریعے اس سسٹم کا ایک روبوٹک یا خود مختار ماڈل تیار کر سکتے ہیں جو مکمل طور پر سورج کی توانائی کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے اور اس کی سمت کا اندازہ بھی سورج کی مدد سے پتہ چلے گا۔

اسی بارے میں