انڈیا سے شیروں کو کمبوڈیا منتقل کرنے کا منصوبہ

شیر تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption دنیا کے شیروں کی آدھی سے زیادہ تعداد انڈیا میں پائی جاتی ہے

شیروں کی عالمی آبادی میں اضافے کے منصوبے کے تحت شیروں کو انڈیا سے کمبوڈیا منتقل کیا جا سکتا ہے۔

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں شیروں کی آبادی والے 13 ایشیائی ممالک کے ایک وزارتی اجلاس کے دوران شیروں کی منتقلی پر اصولی اتفاق کیا گیا ہے۔

شیروں کو ان کی زیادہ آبادی والے ممالک سے ایسے ممالک میں منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی نسل معدوم ہونے کے خطرے کا شکار ہے۔

قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک صدی کے عرصے میں پہلی بار دنیا بھر میں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک صدی کے عرصے میں پہلی بار دنیا بھر میں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

سنہ 2010 میں شیروں کی عالمی آبادی 3200 تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 3900 ہوگئی ہے۔

شیروں کی عالمی آبادی کا تقریباً نصف، یعنی 2226 شیر انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔

ایک بین الاقوامی مہم کے تحت سنہ 2022 تک ان بڑی بلّیوں (شیروں) کی عالمی آبادی دگنی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انڈیا کے شیروں کے علاوہ روس کے شیروں کو بھی روس سے قزاکستان منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں یہ بڑی بلّیاں بالکل معدوم ہو چکی ہیں۔

شیروں کو معدوم ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے قائم ایک بین الحکومتی تنظیم گلوبل ٹائیگر فورم کے سیکریٹری جنرل راجیش گوپال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شیروں کی آبادی بڑھانے کے لیے ان کی جگہ کی منتقلی سب سے موثر قدم ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت کے شیروں کے علاوہ روس کے امُر شیروں کو بھی روس سے قزاکستان منتقل کیا جاسکتا ہے جہاں یہ بڑی بلّیاں بالکل معدوم ہوچکی ہیں

’شیروں کی منتقلی سے قبل ان کے لیے طے شدہ ٹھکانوں کو تیار کیا جائے گا اور انھیں ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے کام کیا جائے گا۔‘

انڈیا کے وزیر ماحولیات پرکاش جاؤڈیکر نے بی بی سی کوبتایا کہ شیروں کے تحفظ کے لیےحکومت ’تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔‘

گلوبل ٹائیگر فورم کے چیف ایگزیکٹیو کیشو ورما کا کہنا ہے کہ شیروں کو انڈیا کے اندر ہی دوسری جگہ پہ بھی منتقل کیاجاسکتا ہے۔

’مثال کے طور پر کوربیٹ نیشنل پارک میں 260 شیر ہیں جبکہ سو مربع کلومیٹر پہ 20 شیروں کی گنجائش رکھی جاتی ہے جبکہ راجا جی جیسے نیشنل پارکوں میں محض دو یا تین شیرنیاں پائی جاتی ہیں۔‘

اسی بارے میں