قدرتی آفات سے عالمی معیشت کو سات ٹریلین ڈالرز کا نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سائنسدانوں کی جانب سے جمع گیے گئے اعدادوشمار کے مطابق سنہ 1900 سے لے کر اب تک قدرتی آفات کے باعث عالمی معیشت کو سات ٹریلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے تیار کیے گئے ڈیٹا بیس میں 35 ہزار قدرتی آفات کے واقعات کو شمار کیا گیا ہے جن کے نتیجے میں 80 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار یورپی جیو سائنسز یونین کے اجلاس میں پیش کیے گئے اور تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے حکومتوں کو بحران سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

تحقیق دانوں نے میڈیا اور پرانے ریکارڈز کی مدد سے سیلاب، خشک سالی، طوفان، آتش فشانی، زلزلے اور آتشزدگیوں کے واقعات اکٹھے کیے ہیں۔

اس تحقیق میں 90 زبانوں میں رپورٹس کو اکٹھا کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تحقیق کے مطابق 1900 سے 2015 تک عالمی معیشت کو سیلاب سے 40 فیصد نقصان پہنچا جبکہ زلزلوں کے نتیجے میں 25 فیصد اور خشک سالی کے باعث 12 فیصد نقصان ہوا۔

قدرتی آفات میں ہلاکتوں کی تعداد کافی حد تک مستقل رہی یعنی اوسطً 50 ہزار ہلاکتیں سالانہ۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں بہت سارے ممالک کامیاب ہو رہے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف ممالک میں مختلف نوعیت کی قدرتی آفات سے نقصانات ہوئے ہیں۔

جیسے کہ برطانیہ میں زیادہ نقصان سیلاب سے ہوا ہے تو چلی اور نیوزی لینڈ میں نقصان زلزلوں کے باعث ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEHR

اسی طرح وسطی افریقہ اور جنوبی امریکہ میں زیادہ نقصان گرمی اور قحط کی وجہ سے ہوا ہے۔

سول انجینیئر جیمز ڈینیئل نے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر ہم 1960 کی دہائی سے اعداد و شمار دیکھیں تو ہم رجحان میں تبدیلی دیکھیں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ سیلاب کے باعث زیادہ نقصان ہو رہے ہیں۔ 30 فیصد نقصان طوفانوں کے باعث جبکہ 26 فیصد زلزلوں کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو جاپان میں آئے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ 12 بلین ڈالر تک کا ہے۔

اسی بارے میں