ایک ایسا جزیرہ جہاں ہر چیز بے تکی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اِس علاقے میں داخلے کے لیے آپ کو ملکہ برطانیہ کے نمائندے سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے

بحر اوقیانوس کے وسط میں واقع ایسسینشن جزیرہ سبز رنگ کے چھوٹے سے نقطے کی طرح ہے، جہاں بیک وقت گرم اور سرد موسم ہوتا ہے۔

برطانوی صحافی میتھیو ٹیلر لکھتے ہیں کہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں سے سائنس دان چارلز ڈارون کو اپنا انقلابی نظریہ قائم کرنے میں مدد ملی تھی۔

بحرِ اوقیانوس کے وسط اور افریقہ اور برازیل کے درمیان واقع یہ برطانوی علاقہ بہت انوکھی جگہ ہے۔

سرکاری طور پر یہاں کا کوئی مستقل رہائشی نہیں ہے۔ برطانوی حکومت اِس علاقے میں رہائش کے حقوق دینے سے انکاری ہے، اور یہاں رہنے والے آٹھ سو افراد کے پاس صرف عارضی مہمان کی حیثیت ہے، حالانکہ اِن میں سے کچھ افراد کئی دہائیوں سے یہاں قیام پذیر ہیں۔

اِس علاقے میں داخلے کے لیے آپ کو ملکہ برطانیہ کے نمائندے سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے۔

یہاں کا ہوائی اڈا اور اِس کا رن وے خلائی شٹل کے حجم کے حساب سے تیار کیا گیا ہے۔ اِس ہوائی اڈے کا انتظام امریکی فضائیہ کے سپرد ہے جبکہ برطانیہ کو یہاں محدود رسائی حاصل ہے۔ ناسا نے چاند پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو یہیں سے روانہ کیا تھا جبکہ یورپیئن خلائی ایجنسی خلا میں بھیجے جانے والے راکٹ کی نگرانی بھی یہیں سے کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 1815 تک یہ علاقہ غیر آباد تھا بعد میں برطانوی شہریوں نے یہاں سکونت اختیار کی

جزیرے کے تقریباً تمام پہاڑوں کی چوٹیوں پر سیٹلائٹ ڈشیں نصب ہیں، لیکن کون سُن رہا ہے، اور کیا سُن رہا ہے، کوئی بتانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اِس کا رقبہ تقریباً گرنزی جزیرے کے برابر ہے، اور یہ صحرا کی طرح گرم اور خشک ہے۔ یہاں کی مٹی سخت ہے۔ سنہ 1815 تک یہ علاقہ غیر آباد تھا بعد میں برطانوی شہریوں نے یہاں سکونت اختیار کی۔

سنہ 1726 میں کچھ ملاح اِس علاقے میں پہنچے جہاں اُنھیں ایک خیمہ اور ڈائری ملی۔ یہ ڈائری اور خیمہ لینڈرٹ ہیسنبوش کا تھا۔ وہ ایک ڈچ میرین تھے جنھیں ہم جنس پرستی کا الزام ثابت ہونے پر سزا کے طور پر اِس علاقے میں بھیج دیا گیا تھا۔

ڈائری کے مطابق ہیسنبوش پانی اور متعلقہ اشیا کی تلاش میں تیزی سے مایوس ہو رہے تھے، جس کے بعد اُنھوں نے سمندری پرندوں اور کچھوے کا خون یہاں تک کہ جان بچانے کے لیے اپنا پیشاب تک پیا۔

اِس جزیرے کے متعلق ڈارون لکھتے ہیں کہ ’ساحل کے قریب کچھ نہیں اگتا۔ یہ جزیرہ مکمل طور پر درختوں سے عاری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اِس جزیرے کے متعلق ڈارون لکھتے ہیں کہ ’ساحل کے قریب کچھ نہیں اگتا۔ یہ جزیرہ مکمل طور پر درختوں سے عاری ہے

ڈارون نے اپنے دوست جوزف ہاکر کے ساتھ اِس جزیرے کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنانے کے لیے غور و فکر کیا۔ ہاکر بعد میں کیو میں شاہی بوٹینک گارڈن کے ڈائریکٹر بن گئے اور اُنھوں نے سنہ 1843 میں اِس علاقے کا دورہ کیا اور یہاں آبادکاری کا منصوبہ وضع کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ جزیرے کے سب سے بلند مقام ایک سبز پہاڑ کی چوٹی پر درخت لگائیں گے۔ یہ درخت گرم جنوب مشرقی ہواؤں میں سے نمی نیچے لے کر آئیں گے تاکہ فوجیوں کے لیے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ وہ جانوروں کے چرنے کے لیے گھاس اُگائیں گے اور سبزیاں کاشت کرنے کے لیے زمین کو اِس کے قابل بنائیں گے۔

یہاں موجود بادلوں سے گھرے جنگل میں کھڑے ماہر حیاتیات ڈاکٹر سیم ویبر کہتے ہیں کہ ’ہمارے ارد گرد کاشت سبزیوں سے ظاہر ہے کہ یہ منصوبہ پوری طرح کامیاب رہا۔‘ ہم آتش فشاں علاقے سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہیں لیکن یہاں اوپر کا موسم ہوا دار ہے۔

ویبر کا کہنا ہے کہ ’ایک محتاط اندازے کے مطابق اب یہاں 38 ہزار کے قریب جھاڑیوں کے جُھنڈ ہیں۔ اِن کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے، اِس کی جڑیں 20 سے 30 میٹر اندر ہیں، اب اِس کو قابو کرنے کے لیے حیاتیاتی طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈارون کے دوست جوزف ہاکر شاہی بوٹینک گارڈن کے ڈائریکٹر بن گئے اور اُنھوں نے سنہ 1843 میں اِس علاقے کا دورہ کیا اور یہاں آبادکاری کا منصوبہ وضع کیا

اسی بارے میں