یورپی خلائی ایجنسی کا دوسرا ریڈار خلا میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سویوز راکٹ خلا میں بلند ہو رہا ہے

یورپی خلائی ایجنسی نے یورپی یونین کے نئے خلائی تحقیقاتی مشن کے تحت دوسرا ریڈار بھی بھیج دیا ہے۔

سینٹینل ون بی ریڈار کو فرینچ گیانا کے مقام سینامیری میں سویوز نامی راکٹ کے ذریعے مدار میں چھوڑا گیا۔

یہ نیا ریڈار بحری جہازوں سے پھیلنے والی آلودگی اور برفانی تودوں کی نگرانی کے علاوہ زمین کی سطح کے دھنسے کے عمل کا سروے بھی کرے گا۔

سینٹینل ون بی ون اے نامی خلائی جہاز کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ون اے کو 2014 میں زمین سے روانہ کیا گیا تھا۔

یہ دونوں ایک ہی مدار میں 180 ڈگری کے فاصلے سے گردش کررہے ہیں، جو ہر چھ دن بعد پوری زمین کا نیا سروے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس مشن کے ذریعے روزانہ تقریباً پانچ ٹیرا بائٹس تک کی معلومات حاصل کی جا سکیں گی، جبکہ دونوں سٹیلائٹس میں موجود لیزر کمیونیکیشن نظام تمام معلومات کو زمین تک پہنچانے میں مدد فراہم کرے گا۔

دی سینٹینل یورپی یونین کے لیے ایک اہم خلائی مشن ہیں جس پر اب تک کروڑوں یورو خرچ کیے جا چکے ہیں۔

یہ دونوں سٹیلائٹ یورپی یونین کے پروگرام کوپرنیکس کا حصہ ہیں جن کا مقصد زمین سے متعلق ہر قسم کی معلومات جمع کرنا ہے۔

کوپرنیکس کئی قسم کی خدمات انجام دے سکے گا، جس میں زمین پر ہوا کے معیار سے متعلق تازہ معلومات فراہم کرنے سے لے کر فصلوں کی کارکردگی اور پانی حاصل کرنے کے ذرائع کے انتظام سے لے کر آمدورفت کے انفرا سٹرکچر کی منصوبہ بندی تک شامل ہیں۔

ایسا کے ارتھ آبزرویشن ڈائریکٹر وولکر لی بگ کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت ہمارے پاس سینٹینل کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے تقریباً 36 ہزار رجسٹرڈ صارف ہیں جو پہلے ہی سینٹینل ون اے سے 40 لاکھ کے قریب تصاویر ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، اور حال ہی میں سینٹینل ٹو اے کے رنگین کیمرے کے متحرک ہونے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سویوز راکٹ گیانا کے خلائی مرکز میں

سویوز کو فرینچ گیانا کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بج کر دو منٹ پر روانہ کیا گیا۔ اس سے قبل موسم کی خرابی اور تکنیکی وجوہات کے سبب سویوز کے روانہ کیے جانے کا عمل تین بار موخر کیا جا چکا ہے۔

تقریباً 2.1 ٹن وزنی سینٹینل کو 23 منٹ میں 685 کلومیٹر کی بلندی پر پہنچا دیا گیا۔

ایسا میں سینٹینل ون کے پروجیکٹ مینیجر رامون ٹوریس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اس مشن کو تب تک مکمل اختیار نہیں دے سکتے جب تک وہ 693 کلومیٹر بلند مخصوص مدار تک نہیں پہنچ جاتا۔ اس عمل میں دو سے تین ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مخصوص بلندی تک پہنچنے کے بعد ریڈار میں نصب آلات کے طریقہ کار کا تعین کیا جائے گا اور امید ہے کہ سینٹینل بی ون 14 ستمبر تک کام بھی شروع کر دے گا۔‘

اسی بارے میں