سطحِ سمندر میں اضافہ، ’کراچی ڈوب رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیینٹ کی کیمٹی نے اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا

پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیات نے سمندر کی سطح بلند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کراچی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل کانفرنس بلوانے کی ہدایت کی ہے۔

سوموار کو سینیٹ کی کمیٹی کو قومی ادارہ برائے اوشن گرافی کی حالیہ رپورٹ کے بارے بریفنگ دی گئی۔

اس بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ سمندر کی سطح سالانہ ایک اعشاریہ دو ملی میٹر کی شرح سے بلند ہو رہی ہے اور اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو آئندہ ایک صدی کے دوران سمندر کی سطح بلند ہونے کی شرح دگنی ہو جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسی رفتار سے سمندر میں پانی سطح بلند ہوتی رہی تو آئندہ 35 سے 45 برسوں کے درمیان کراچی کے ساحلی علاقے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا گیا کہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے دنیا میں پانچ کروڑ افراد کی زندگیوں متاثر ہوں گی جبکہ سمندر کے قریب رہنے والے چار کروڑ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔

کمیٹی کو بتایا کہ گیا کہ کراچی کے قریب سمندر کی سطح اور انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں پانی کی سطح کو ناپنے کے لیے سو سال پرانا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سمندر کی سطح بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں ہو رہا ہے جہاں دریا کا پانی سمندر میں گرتا ہے لیکن ڈیلٹا نشیب میں ہے اور ہموار ہے۔ اسی لیے سمندر کی سطح بڑھنے سے ان علاقوں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بحیرہ عرب میں بڑھتے ہوئے طوفانوں کے باعث صوبہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں کو خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ anisha shah

سینیٹ کی کمیٹی کے اراکین نے سمندر کی سطح بلند ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل کانفرنس بلوانے کی تجویز دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سپارکو کے تعاون سے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی سمندر میں پانی کی سطح اور زمین کی سمندر بردی اور سیلاب کا جائزہ لینے کے لیے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

وزارت کے حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد طویل مدت میں معلومات اکٹھی کرنا اور اس کا معائنہ کرنا ہے تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ اس ڈیٹا کے تفصیلی معائنے کے بعد پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ممکنہ طور پر ایسے مقامات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جہاں سمندر کا پانی داخل ہو سکتا ہے۔

سیینٹ کی کیمٹی نے اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کمیٹی نے تجویز دی کہ دارالحکومت میں پلاسٹک کے تھیلے بنانے پر پابندی لگائی جائے۔

اسی بارے میں