ای میل کمپنیوں کو صارفین کی معلومات افشا ہونے کا مسئلہ درپیش

تصویر کے کاپی رائٹ Mail.ru

متعدد معروف ای میل کمپنیاں ہیکروں کی جانب سے ان کے لاکھوں صارفین کی لاگ ان معلومات آن لائن شائع کرنے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

ہیکروں کا نشانہ بننے والوں میں گوگل جی میل، یاہو میل، مائیکروسافٹ ہاٹ میل اور میل ڈاٹ آر یو شامل ہیں۔

جس سکیورٹی کمپنی نے اس مسلے کی نشاندہی کی ہے، اس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اس قبل بہت سے یوزر نیم اور پاس ورڈ لیک کیے جا چکے ہیں۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ان اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی گئی ہے یا نہیں۔

ہولڈ سکیورٹی نامی کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیکروں سے کل 27 کروڑ ای میل کے پتے اور پاس ورڈز حاصل کیے ہیں جن میں سے سوا چار کروڑ وہ ہیں جنھیں اس سے قبل افشا ہونے والی فہرست میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر سائبر مجرمان نے اس فہرست کے تبادلے کے لیے 50 روبل کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہولڈ کمپنی کے عملے کی جانب سے ایک فورم میں ان کے حق میں تبصرہ شائع کرنے کے بعد انھوں نے بغیر کسی معاوضے کے ہی اس فہرست کی ایک نقل مہیا کر دی۔

کمپنی کے چیف انفارمیشن سکیورٹی آفیسر ایلکس ہولڈین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’ہیکروں کی ویب سائٹوں پر بڑے پیمانے پر ہیکننگ کے طریقوں کے اشتہار شائع کیا جاتے ہیں اور پھر کسی سائٹ سے بڑے پیمانے پر صارفین کی معلومات لے کر ان کا تجربہ کیا جاتا ہے۔‘

الیکس ہولڈین نے مزید کہا کہ ’یہ دریافت اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ ہیکر ان تمام معلومات کو تقریباً مفت شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے ان افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جن کے پاس یہ معلومات موجود ہیں۔‘

روسی ای میل پروائڈر میل ڈاٹ آر یو کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بڑی تعداد میں یوزر نیمز تک مختلف پاس ورڈز کے ساتھ رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

’ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا یوزر نیم اور پاس ورڈز کے کمبینیشن میچ کرتے ہیں یا نہیں، اور جیسے ہی ہمیں معلومات حاصل ہو جاتی ہیں تو ہم متعلقہ صارف کو خبردار کر دیں گے۔‘

اسی بارے میں