ریو پر زیکا وائرس کا سایہ، تاہم اولمپکس پروگرام کے مطابق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آئی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ مچھروں کو نشانہ بنانے اور انھیں نہ پنپنے دینے کے منصوبے پر عمل جاری رہےگا

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ برازیل کے شہر ریو میں زیکا وائرس کے خدشات کے باوجود اولمپک کھیلوں کو منسوخ کرنے، اس میں تاخیر کرنے یا انھیں دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ادھر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئي او سی) کے میڈیکل ڈائریکٹر رچرڈ بجٹ کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کی قریب سے نگرانی کرتے رہیں گے۔

ڈاکٹر بجٹ نے یہ بات کینیڈا کے معروف ڈاکٹر پروفیسر عامر عطارن کی اس بات کے جواب میں کہی ہے جس میں انھوں نے اولمپک گیمز کو منتقل کرنے یا منسوخ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

پروفیسر عطارن کا کہنا ہے کہ اولمپک گیمز کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی برازیل آمد سے زیکا وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائےگا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں پروفیسر عطارن نے کہا: ’اگر آئی او سی اور عالمی ادارۂ صحت کا دل اتنا بڑا نہیں ہے کہ وہ ایسے بچوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے گیمز کو موخر کر سکیں جن کے تاحیات معذور ہونے کا خطرہ ہے تو پھر تو وہ دنیا کے سفاک ترین اداروں میں سے ایک ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگست میں اولمپک کھیلوں کے انعقاد سے قبل حکام اس کوشش میں لگے ہیں کہ زیکا وائرس کے لیے ذمہ دار مچھروں کا خاتمہ کیا جا سکے

ان کا مزید کہنا تھا: ’میں تو صرف اس میں تھوڑی سی تاخیر کی بات اس لیے کر رہا ہوں تاکہ مستقل طور پر معذور بچوں کی پیدائش کو روکا جا سکے۔‘

صحت عامہ کے ماہر ڈاکٹر عطارن کا موقف ہے کہ آئی او سی زیکا وائرس کے بارے میں جن باتوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

’دی ہارورڈ پبلک ریویو‘ میگزین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں ڈاکٹر عامر عطارن نے کہا ہے کہ برازیل کا شہر ریو ڈی جنیرو لوگوں کی توقعات سے کہیں زیادہ زیکا وائرس سے متاثر ہے اور اگر ایک مسافر بھی اس وائرس سے متاثر ہوکر دوسرے علاقے میں چلا گیا تو بس اسی سے دنیا بھر میں اس کے پھیلنے کی ابتدا ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کھیل پروگرام کے مطابق کروائے گئے تو یہ خاص طور پر بھارت، نائجیریا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے لیے اچھی بات نہیں ہوگي جن کے پاس زیکا سے نمٹنے کے لیے برازیل جیسی سہولیات نہیں ہیں۔

لیکن ڈاکٹر عطارن کے موقف سے او آئی سی، عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او اور کئی دیگر عالمی ماہرین متفق نہیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ پانچ اگست سے 21 اگست کے دوران ہونے والے کھیل اس سے بہت متاثر نہیں ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے متعلق ڈاکٹر بجٹ نے ایک بیان میں کہا: ’ڈبلیو ایچ او کی جانب سے یہ واضح بیان کہ سفری اور تجارتی پابندی کی ضرورت نہیں، کا مطلب صاف ہے کہ ریو گیمز کو منسوخ کرنے، اس میں تاخیر یا موخر کرنے اور انھیں منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’آئی او سی صورت حال پر قریب سے نظر رکھے گي اور ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر کام کرے گي، اور ہمیں اعتماد ہے جیسا کہ ماہرین نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر حالات خاصے بہتر ہو جائیں گے۔‘

آئی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ مچھروں کو نشانہ بنانے اور انھیں نہ پنپنے دینے کے منصوبے پر عمل جاری رہےگا۔

امکان ہے کہ ریو اولمپک کے دوران دنیا بھر سے تقریباً پانچ لاکھ لوگ برازیل کا سفر کریں گے۔

اسی بارے میں