نئی یادوں کی تشکیل کے لیے کچی نیند اہم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ انسانوں میں بھی دماغی حرکت کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں تاکہ یادوں سے متعلق ان کی معلومات میں اضافہ ہو

سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ نئی یادوں کی تشکیل کے لیے نیند کا وہ ابتدائی حصہ بہت اہم ہے جس کے دوران سونے والا فرد خواب دیکھتا ہے۔

’سائنس‘ نامی جریدے میں تحقیق کاروں نے سوتے ہوئے چوہوں کی دماغی سرگرمیوں کو تبدیل کیا اور اس کے بعد ان کی یادوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔

ان کے نتائج سے یہ معلوم ہوا کہ اگر ہلکی نیند جسے ’آر ای ایم‘ بھی کہا جاتا ہے، کے دوران دماغی خلیات کو کام نہ کرنے دیا جائے تو چوہوں کو گذشتہ دن میں سکھائی گئی آسان چیزیں بھی نہیں یاد رہتیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ یہی تحقیق ایسے انسانوں کی دماغی حرکات پر کرنا چاہتے ہیں جو یادداشت کی خرابی کا شکار ہیں۔

ان کے مطابق گذشتہ دن کی یادوں کو محفوظ رکھنے کے لیے گہری نیند بہت اہم ہے لیکن دورانِ نیند خوابوں کا دورانیہ ناقابل اعتبار ہوتا ہے اور اس کی تحقیق کرنا بھی بہت مشکل ہے۔

اس لیے تحقیق کاروں نے سوتے ہوئے چوہوں کے دماغ کے اندر نیورونز کے ایک چھوٹے سے حصے پر قابو پانے کے لیے دماغ میں چھوٹا سا آپٹکل فائبر ڈالا۔

آر ای ایم نیند کے دوران اگر ان دماغی خلیات کو خاموش کیا جائے تو چوہوں کو گذشتہ دن کے بارے میں کچھ نہیں یاد رہتا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب وہ انسانوں میں بھی دماغی حرکت کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں تاکہ یادوں سے متعلق ان کی معلومات میں اضافہ ہو۔

اسی بارے میں