موت کے بعد ڈیجیٹل کیسے رہ سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ایئن ٹوئگ کے ساتھ ان کی اہلیہ کیرولن

ہم روزانہ بڑے پیمانے پر ای میلز، پیغامات، سماجی رابطوں کی اپڈیٹس، تصاویر، صحت کے بارے میں معلومات، خوارک اور بہت سی دوسری سرگرمیوں کی شکل میں مواد پیدا کرتے ہیں۔

اور یہ مواد ہمارے بعد بھی رہے گا۔ ایسے میں ہماری موت کے بعد ہمارے عزیز ان کا کیا کریں؟

ایئن ٹوئگ نے 33 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ان کی بیوہ کیرولین نے بتایا: ’ان کی موت کے دوسرے دن جب میں بیدار ہوئی تو ایک مختلف دنیا سامنے تھی اور مجھے بہت کچھ کرنا تھا۔‘

ایئن کے سر میں ایک پھوڑا تھا جس کی کامیاب کیموتھریپی ہو رہی تھی لیکن اچانک بیماری کا حملہ ہوا اور تین ماہ کے بعد وہ نہیں رہے۔

ان کے والدین نے کیرولین کی مدد کی لیکن ایک چیز ایسی تھی جس سے کیرولین کو تنہا ہی نبرد آزما ہونا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption اس کیو آر کوڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مسٹر وٹ آگ بجھانے والے عملے سے تعلق رکھتے تھے

انھوں نے کہا: ’ایئن انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کو پسند کرنے والے افراد میں نہیں تھے۔ لوگ اس پر کتنا وقت گزارتے ہیں اس کے بارے میں وہ شاکی رہتے تھے لیکن پھر بھی انھوں نے آن لائن پر نہ جانے کتنے اکاؤنٹس اور پاس ورڈ بلکہ ایک پوری زندگی چھوڑ رکھی تھی۔‘

پچاس سال قبل لوگ تصاویر اور خطوط سے بھرے جوتوں کے بکسے رکھتے تھے۔ اگر آپ ایئن کے متعلق آن لائن پر چیزیں تلاش کریں تو آپ کو ہزاروں کی تعداد میں تصاویر اور پیغامات ملیں گے۔

اپنے خاوند کے انٹرنیٹ کے بارے میں بیک وقت مخالف جذبو ں کے برعکس کیرولین کو سائبر دنیا میں سکون محسوس ہوتا تھا۔

انھوں نے ایئن کی زندگی پر مبنی ایک ویب سائٹ بنائی اور انھیں یہ خیال آیا کہ ’وڈوڈ اینڈ ینگ (وآئی) نامی خیراتی ادارہ‘ نوجوان بیواؤں کو تعاون فراہم کر سکتا ہے۔

اس کے ساتھ انھوں نے ایک دوسری سائٹ شروع کی جس میں ایسی تخلیق کو فنڈ کیا جانے لگا جو بچوں کے دکھ سے نکلنے میں مدد کرنے کے لیے بنائی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption کیرولن نے ایئن کے فیس بک کو یادگار فیس بک میں تبدیل کرایا

بعض لوگوں نے اپنے کتبے کے بجائے آن لائن پر اپنی موجودگی کو پسند کیا۔

ڈورسیٹ کمپنی کیو آر میموریز سٹیل کا ’کیو آر کوڈ‘ فراہم کرتی ہے جو کہ ایک قبر سے منسلک ہو سکتا ہے جہاں سے ایک ویب پیج تک رسائی ہوسکتی ہے اور جہاں کسی شخص کے بارے میں ان کی زندگی کے مواد یا ان کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ کے مواد مل سکتے ہیں۔

کیو آر میموریز کے مینیجنگ ڈائرکٹر سٹیفن نممو کا کہنا ہے کہ ’اس پر ہمیشہ ہماری امید کے مطابق چیزیں نہیں ہوتی ہیں۔ کسی خاتون کے جنازے کی ویڈیو ہوتی ہے جس میں مناجات ہوتی ہے یا پھر کوئی بوڑھا شخص کسی مے خانے میں بیٹھا گا رہا ہے اور اس کا سات منٹ کا گیت اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہو۔‘

یہ کمپنی ایک کوڈ کے لیے 95 پاؤنڈ لیتی ہے اور اس سے منسلک ویب پیج کے لیے مزید 95 پاؤنڈ چارج کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کیو آر کوڈ ان کے لیے ’عجیب جاذبیت رکھتا ہے۔‘

’ہم پوچھتے ہیں کہ اگر وہ بے معنی ہو جائیں تو پھر آپ کیا کریں گے۔ ہم ہمیشہ ان کے بارے میں سوچتے ہیں لیکن وہ کسی نہ کسی شکل میں یہاں رہیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ جتنا عجیب رہے اتنا ہی بہتر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption سماجی رابطوں یا اس قسم کی سہولیات فراہم کرنے والی ویب سائٹوں پر کسی کی ذاتی زندگی کے اسرار سامنے آنے کا خطرہ رہتا ہے

کیرولن نے ایئن کے فیس بک پیج کو یادگار بنانے کے لیے منتخب کیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے دوست ان کے ٹائم لائن پر ان کی تصاویر دیکھ سکیں اور ان کے یوم پیدائش پر کوئی بھی دردناک یاددہانی نہ ہو۔

گذشتہ سال فیس بک نے وراثت کی پالیسی اپنائی کہ کسی کے صفحے کا نظم و نسق دیکھنے اور اسے اپڈیٹ کرنے کے لیے کون بہتر ہوگا۔

وہ اس کی پروفائل ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں لیکن ذاتی پیغامات نہیں پڑھ سکتے یا پھر ان کے بدلے لاگ ان نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ آپ کمپنی سے ان کے اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کچھ نہیں کرتے ہیں تو پھر کمپنی آپ کی موت کی خبر کے بعد آپ کے اکاؤنٹ کو یادگار کی درجہ بندی میں ڈال دے گی۔

اسی بارے میں