آلودہ ممالک کو سیلاب، طوفان اور سخت موسم کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption امریکہ، چین اور انڈیا کے لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی کے سبب سمندر کی سطح میں اضافے، طوفانوں اور انتہائی سخت موسموں کا سامنا ہوسکتا ہے

ایک برطانوی امدادی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سنہ 2060 تک دنیا بھر کے مختلف ساحلی شہروں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہ کن سیلاب سے ایک ارب کے قریب لوگ متاثر ہوں گے۔

* ’ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار رہیں‘

* ماحولیاتی تپش، ’سمندر کی سطح میں غیرمعمولی اضافہ‘

کرسچیئن ایڈ کے ایک مطالعے کے مطابق کاربن سے سب سے زیادہ آلودہ تین ممالک کے لوگوں کو سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

امریکہ، چین اور انڈیا کے لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی کے سبب سمندر کی سطح میں اضافے، طوفانوں اور انتہائی سخت موسموں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ادارے کے مطابق انڈیا کے ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر کولکتہ اور ممبئی میں انتہائی خطرے کا شکار ہیں۔

ادارے کی جانب سے مرتب کردہ فہرست کے مطابق انتہائی خطرے کا شکار سات شہر ایشیا میں ہیں جبکہ امریکی شہر میامی آٹھویں نمبر پر ہے۔

ادارے سے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی حدت میں کمی کے لیے اقدامات کریں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے منصوبے بنائیں۔

واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ دنیا کے دس آلودہ ترین شہروں میں سے چار انڈیا میں واقع ہیں۔ گوالیار، احمد آباد، پٹنہ اور رائے پور کی فضا میں آلودہ ذرات کی سطح انتہائی بلند ہے۔ جبکہ انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کو دنیا کا 11واں آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔

اسے پہلے ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ انسانی ساختہ ماحولیاتی تپش کی وجہ سے زمین پر سطح سمندر میں گذشتہ دو ہزار آٹھ سو سالوں کے مقابلے میں کئی گنا تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

اسی بارے میں