روم میں تاریخی بیرکوں کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اٹلی کے دارالحکومت روم میں نئی میٹرو لائن کے لیے کی جانے والی کھدائی کے دوران دوسری صدی عیسوی کے دور کے رومی بیرکوں کے آثار ملے ہیں جو کہ ہیدریان حکمران کے دور کے ہیں۔

یہ دریافت اتنی غیر معمولی ہے کہ اٹلی شہر کی تیسری میٹرو لائن پر ایمبا ایرادم کے مقام پر ’آرکیالوجی سٹیشن‘ بنانے پر غور کر رہا ہے۔

جب یہ نیا سٹیشن بنایا جا رہا تھا تو ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے مٹی ہٹانے کے دوران یہ آثار اور رنگین پتھر سطح ’زمین سے نو میٹر نیچے ملے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ کھنڈرات نو ہزار سات سو مربع فٹ تک پھیلے ہوئے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس مقام پر رومن حکمران کے محافظ دستوں کو رکھا جاتا تھا۔یہاں سو میٹر لبمی ڈیوڑھی کے ساتھ ساتھ 39 کمرے شامل ہیں۔

ایمبا ایرادم، کولوزیم کے مقام پر ایک اہم میٹرو انٹرچینج کے قریب واقع ہے جسے فوری ایمپیریئل کہا جاتا ہے۔ میٹرو لائن سی کا نئے سٹیشن کا افتتاح 2020 میں کیا جانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کولوزیم علاقے کے آرکیالوجی کے سربراہ فرانسسکو پراسپیریٹی کا کہنا ہے کہ ’میٹرو پر کیے جانے والے کام میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی تاہم سٹیشن کے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔‘

ابی سینیا جنگ کے دوران سنہ 1936 میں حکمران ہیلی سیلاسی کی ایتھوپیائی فوج کے خلاف اطالوی فاشسٹ کی کامیابی کے بعد ایمبا ایرادم نام دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اٹلی کی وزارت ثقافت کے حکام کا کہنا ہے کہ رومی حکمران کے محافظوں کی بیرکوں کے آثار ملنا ’غیر معمولی ہے۔‘

پريٹری گارڈز کو روم کے پہلے حکمران آگسٹس نے تشکیل دیا تھا جو حکمران کے محافظوں اور نجی ملٹری فورس کے طور پر کام کرتے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق روزیلا ری کا کہنا ہے کہ ’ان بیرکوں کے قریب ہی چار دیگر رومن بیرکس موجود ہیں لہذا ہم اس علاقے کی درجہ بندی فوجی علاقے کے طور پر کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں