اوبر بھی خودکار گاڑیوں کی دوڑ میں شامل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوبر کا کہنا ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے فورڈ فیوژن کی ایک گاڑی کو ریڈار، لیزر سکینرز اور کیمرے سے لیس کیا ہے

ٹیکسی سروس کے لیے معروف امریکی کمپنی اوبر نے بھی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی کار تیار کرنے کی اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس نے اس بارے میں تجربہ کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔

اوبر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے فورڈ فیوژن کی ایک گاڑی کو ریڈار، لیزر سکینرز اور کیمرے سے لیس کیا ہے۔

اوبر کے اس پروجیکٹ پر پٹسبرگ کی کارنیگی میلن یونیورسٹی کے اشتراک سے کام چل رہا ہے۔

حال میں کئی کار بنانے والی اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے خود کار کاریں بنانے کی دوڑ میں شامل ہوئی ہیں۔ گوگل نے تو اس پر سب سے پہلے کام شروع کیا تھا۔

ٹیسلا جیسی کمپنیاں بھی اس جدید ٹیکنالوجی کو تیار کرنے میں لگی ہیں جبکہ چین کی کار بنانے والی بعض کمپنیوں نے اس شعبے میں کافی حد تک پیش رفت بھی کی ہے۔

اوبر کا حتمی ہدف کار کی ملکیت کے مسئلے کو ختم کرنا ہے اور اس کے لیے کمپنی مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی۔ وہ چاہتی ہے کہ صارف کار طلب کرے اور وہ بس پانچ منٹ سے قبل وہ مہیا ہوجائے اور پھر منزل مقصود پر لے کے چل پڑے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UBER
Image caption اوبر چاہتی ہے کہ صارف کار طلب کرے اور وہ بس پانچ منٹ سے قبل وہ مہیا ہوجائے اور پھر منزل مقصود پر لے کے چل پڑے

دنیا کے کئی بڑے شہروں میں وہ اس مقصد میں تقریباً پہلے ہی کامیاب ہو چکی ہے۔ اوبر کی کار کو سواری لینے میں اوسطاً پانچ منٹ سے کم کا وقت لگتا ہے۔

لیکن کمپنی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اسے کار ڈرائیوروں کی سخت ضرورت ہے اور اس جدید تحقیق سے اس میدان میں ترقی کے لیے وہ اس مصیبت سے بھی چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

اوبر ہی نہیں بلکہ دیگر کمپنیاں بھی اس میدان میں اتر چکی ہے۔ اوبر ہی کی حریف کمپنی لفٹ بھی ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کار کی تیاری کی دوڑ میں شامل ہوگئی ہے۔

لیکن اس مقابلے میں اب تک اوبر سب سے آگے ہے جو مسلسل اپنی کوششوں سے اس سمت میں آگے نکلتی جا رہی ہے۔

اوبر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سمت میں جاری کوششوں کے تحت حقیقی دنیا میں اس کا تجربہ بہت اہم ہے اور بتایا کہ جو تجربہ کیا جا رہا ہے اس میں ایک تربیت ڈرائیور اس کے آپریشن کی مستقل نگرانی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں