دریائے نیل کے آدم خور مگرمچھ فلوریڈا میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فلوریڈا میں موجود تین میں سے ایک افریقی مگرمچھ

امریکہ کی ریاست فلوریڈا کی ایک دلدل میں دریائے نیل کے تین آدم خور مگرمچھ پائے گئے ہیں۔ اس بات کی تصدیق ان کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئي ہے۔

مقامی مگرمچھ کے برعکس مگرچھ کی یہ نسل انسانوں کے شکار کرتی ہیں اور جنوبی صحارا کے بڑے علاقے میں یہ سالانہ 200 انسانوں کی موت کا سبب بنتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا بہت امکان ہے کہ اس نسل کے مزید درندے فلوریڈا میں گھوم رہے ہوں۔

تاہم قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آخر یہ امریکہ کیسے پہنچے۔

یونیورسٹی آف فلوریڈا میں ماہر حشریات کینتھ کرسکو نے کہا: ’یہ افریقہ سے تیر کر نہیں پہنچے۔‘

کینتھ کرسکو نے خبررساں ادارے اے کو بتایا کہ ایک امکان یہ ہے کہ انھیں بغیر لائسنس والے کلکٹرز غیر قانونی طور پر لائے ہوں اور انھیں محفوظ نہ رکھ سکے ہوں یا پھر دانستہ طور پر انھیں چھوڑ دیا ہو۔

یہ جانور سنہ 2009 ، 2011 اور 2014 میں پائے گئے اور ان کے حالیہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بات یہ تصدیق ہوئی کہ یہ دریائے نیل کے مگرمچھ ہیں۔

دریائے نیل کے یہ جانور چھ میٹر تک بڑھ سکتے ہیں اور جو کہ مقامی مگرمچھ چار میٹر لمبے سے واضح طور پر بڑے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Scott Buckel Alamy
Image caption اب فلوریڈا میں برما کے اژدھوں کی تعداد اچھی خاصی ہے

یہ آدمی سمیت جھینگے، مچھلیوں، کیڑوں، ممولیہ اور چڑیوں کے شکار پر زندہ رہتے ہیں۔ یہ مویشیوں پر حملے کے لیے بھی معروف ہیں۔

فلوریڈا کے جنگلی جانوروں کے ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر یہ ایورگلیڈز کے پانی والے علاقے میں بچے دیتے ہیں تو افریقی نسل کے اس جاندار سے ریاست کے ایکو سسٹم کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

برما کے اژدھے کو پہلی بار سنہ 1980 کی دہائی میں ایورگلیڈز میں دیکھا گیا تھا اور اب اس خطرناک سانپوں کی وہاں خاطر خواہ آبادی ہے۔

وائلڈ لائف کے ماہر حیاتیات جو ویسیلویسکی نے کہا: ’میرے پاس دو الفاظ ہیں برمائی اژدھا۔ اگر آپ 15 سال قبل کہتے کہ ایورگلیڈز میں اس کی مستقل آبادی ہے تو ہمیں یقین نہیں آتا۔‘

باہری جاندار غیر تیار ماحولی نظام میں تباہی لا سکتے ہیں۔ جب برما کے اژدھے پہلے پہل فلوریڈا کے ایورگلیڈز میں آئے تو انھوں نے تیزی سے افزائش نسل کی اور انھوں نے گھڑیال سمیت مقامی وائلڈ لائف کو نشانہ بنایا۔ اور ایک اندازے کے مطابق آج وہاں 30 ہزار سانپ ہیں۔

لیکن حملہ آور نسلیں ہمیشہ بہت بڑی تعداد میں نہیں آتیں۔ انڈین سلورلیف یا سفید پروں والی مکھی جو قد میں صرف ایک ملی میٹر ہوتی ہے لیکن اس نے سنہ 1980 کی دہائی میں کیلیفورنیا، ٹکسس اور اریزونا میں فصلوں کو دس کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا۔

اسی بارے میں