’زیادہ چربی استعمال کرنے کا مشورہ غیر ذمہ دارانہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی خیراتی ادارے نیشنل اوبیسٹی فورم نے کہا ہے کہ زیادہ چربی کھانے سے موٹاپے اور ذیابیطس قسم دوم کو قابو میں لایا جا سکتا ہے

برطانوی ادارے پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی سرکردہ ماہرِ غذائیت نے کہا ہے کہ لوگوں کو کھانے میں زیادہ چربی استعمال کرنے کا مشورہ دینا غیرذمہ دارانہ ہے جو ممکنہ طور پر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ایلسن ٹیڈسٹون نیشنل اوبیسِٹی فورم کی ایک رپورٹ کا جواب دے رہی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ زیادہ چربی کھانے سے موٹاپے اور ذیابیطس قسم دوم کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

ادارے نے یہ بھی کہا تھا کہ کم چربی والی خوراک کے ’صحت پر تباہ کن اثرات‘ مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاہم دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارے نے شواہد کا انتخاب من مانے طریقے سے کیا ہے۔

ڈاکٹر اسیم ملہوترا نیشنل اوبیسِٹی فورم کے سینیئر مشیر ہیں۔ انھوں نے کہا: ’غالباً جدید طب کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی لوگوں کو کم چربی والی غذا کھانے کا مشورہ دینا تھا۔

’موٹاپے اور ذیابیطس قسم دوم سے نمٹنے کے لیے ہمیں اس عوامی پیغام کو جلد از جلد تبدیل کرنا ہو گا۔ دبلا ہونے کے لیے چربی استعمال کیجیے۔ چربی سے ڈریے نہیں، یہ آپ کی دوست ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

تاہم ڈاکٹر ٹیڈسٹون کہتی ہیں: ’تمام شواہد کی روشنی میں لوگوں کو زیادہ چربی استعمال کرنے کا مشورہ دینا غیر ذمہ دارانہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کا غذا کے بارے میں سرکاری ہدایت نامہ ہزاروں سائنس تحقیقات کی روشنی میں مرتب کیا گیا تھا، جب کہ نیشنل اوبیسِٹی فورم نے صرف 43 تحقیقات کا حوالہ دیا ہے جن میں سے بعض محض تبصروں پر مبنی ہیں۔

فورم کی رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:

  • چربی کھانے سے آپ موٹے نہیں ہوتے
  • چربی دل کی بیماری پیدا نہیں کرتی، اور دودھ میں پائی جانے والی چربی ممکنہ طور پر حفاظتی کردار ادا کرتی ہے
  • ایسی غذائیں جن پر ’کم چربی،‘ ’لائیٹ،‘ یا ’کم کولیسٹرول‘ لکھا ہو ان سے پرہیز کرنا چاہیے
  • ذیابیطس قسم دوم کو روکنے اور محدود کرنے کے لیے نشاستہ دار غذائیں اور چینی ملی غذاؤں کو کم کرنا چاہیے

یونیورسٹی آف گلاسگو کے میٹابولک میڈیسن کے پروفیسر نوید ستار کہتے ہیں کہ اس رپورٹ کی کچھ باتیں اچھی، کچھ بری اور کچھ بالکل غلط ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیادہ چربی کھانے سے موٹاپے اور ذیابیطس کا علاج ممکن ہے اور اس کے بہت برے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہہ رپورٹ کہ مصنفین نے صرف اپنے مطلب کے شواہد کا انتخاب کیا ہے اور وہ تمام تحقیقات نظر انداز کر دی ہیں جو ان کے نتائج کے خلاف جاتی ہیں۔