’زیکا وائرس افریقہ کی چوکھٹ تک پہنچ چکا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption وائرس کی درجہ بندی کے بعد پتہ چلا ہے کہ یہ ایشیائی نسل کے ہیں جو امریکہ سے افریقہ پہنچے ہیں

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ برازیل میں پھیلنے والا زیکا وائرس افریقہ میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ زیکا وائرس کی تازہ نسل پھیل رہی ہے اور یہ افریقہ کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔

٭ زیکا وائرس یورپ میں بھی پھیلنے کا خدشہ

ابھی یہ شمال مغربی ساحل کے پاس موجود جزائر کے سلسلے کیپ ورڈی میں گردش کر رہا ہے۔

زیکا اعصابی خرابی سے منسلک ہے جس میں بچوں کی چھوٹے دماغ کے ساتھ پیدائش بھی شامل ہے۔

افریقہ میں ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ڈائرکٹر ڈاکٹر ماٹشیڈیشو موئٹی نےکہا: ’اس بات کے علم سے افریقی ممالک کو خطرے کی سطح کو از سر نو چانچنے اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے میں مدد ملے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’افریقی ممالک کو چاہیے کہ وہ حاملہ خواتین میں اس کی پیچیدگیوں کے متعلق بیداری پیدا کریں اور مچھر سے بچنے اور جنسی طور پر منتقلی روکنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے

تاہم انھوں نے کہا کہ اس کو روکنے کے لیے وہ سفر پر سخت پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔

کیپ ورڈی میں زیکا وائرس کے سات ہزار مشتبہ کیسز ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان میں سے تقریبا 180 حاملہ خواتین ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ تین بچے مائیکرو سیفیلی سے متاثرہ دماغ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔

سائنسدانوں نے جب تک کہ سینیگال میں وائرس کی درجہ بندی نہیں کی تھی اس وقت تک انھیں یہ پتہ نہیں تھا کہ کیپ ورڈی میں افریقی نسل یا ایشیائی نسل کے وائرس پھیلے ہیں جس نے برازیل اور لاطینی امریکی ممالک کو نشانہ بنا رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زیکا وائرس کے سبب معمول سے چھوٹے سر کے بچے پیدا ہو رہے ہیں

جانچ میں پتہ چلا ہے کہ یہ ایشیائی نسل کے وائرس ہیں اور اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو برازیل میں بچوں کے دماغ کے سائز کو متاثر کرنے کے موجب ہیں۔

برازیل میں مائکرو سیفیلی کے 1300 متصدقہ کیسز ہیں یعنی چھوٹے دماغ کے ساتھ بچے پیدا ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں دوسرے کیسز کی جانچ جاری ہے۔

برطانیہ کے ایک ریسرچر نے کہا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر افریقی ممالک میں زیکا وائرس گذشتہ 50 برسو‎ں سے موجود ہے اس لیے کچھ آبادی میں اس سے مدافعت کی قوت پیدا ہو چکی ہوگی۔

اسی بارے میں