چینی کمپنی میں ہزاروں ملازمین کی جگہ اب روبوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فاکس کون ٹیکنالوجی گروپ نے بی بی سی کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مینوفیکچرنگ سے متعلق بہت سے کاموں کو خودکار بنانے کی کوشش میں ہے

ایپل اور سام سنگ جیسی کمپنیوں کو مال فراہم کرنے والی چینی کمپنی فاکس کون نے اپنی فیکٹری کے 60 ہزار ملازمین کو فارغ کر کے ان کی جگہ روبوٹس سے کام لینا شروع کیا ہے۔

ایک سرکاری افسر نے مقامی اخبار ’ساؤتھ چائنا سی مارنگ پوسٹ‘ کو بتایا ہے کہ اس کمپنی کی ایک فیکٹری میں ملازمین کی تعداد 110،000 سے کم کر کے 50 ہزار کر دی گئی ہے اور ان کی جگہ روبوٹس کو متعارف کرایا گیا ہے۔

کنشان کا علاقہ فیکٹریوں اور کمپنیوں کا مرکز ہے اور یہاں محکمۂ تشہیر کے ایک افسر ژویولین نے بتایا کہ دیگر کمپنیاں بھی اسی راہ پر چلنے کی تیاری میں ہیں۔

چین میں روبوٹس بنانے میں زبردست سرمایہ کاری بھی ہوتی رہی ہے۔

فاکس کون ٹیکنالوجی گروپ نے بی بی سی کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مینوفیکچرنگ سے متعلق بہت سے کاموں کو خودکار بنانے کی کوشش میں ہے۔ تاہم کمپنی نے اس بات سے انکار کیا کہ اس کا مقصد نوکریوں کو ختم کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption چین کے ڈنگوان شہر میں روبوٹس کی تیاری میں ستمبر 2014 اور 15 سے لیکر اب تک تقریبا چار ارب یوان کی سرمایہ کاری کی چا چکی ہے

اس بیان کے مطابق: ’ہم روبوٹک انجینیئرنگ اور دیگر مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال بار بار ایک ہی طرح کے اس کام کو کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جسے پہلے ملازم انجام دیا کرتے تھے اور مینیوفیکچرنگ کے عمل میں ڈیویلپمنٹ، پروسیس کنٹرول اور کوالٹی کنٹرول جیسی چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ہم انھیں ملازمین کو تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ اس کا معیار بہتر کیا جا سکے۔‘

بیان میں مزید کہا گيا ہے کہ ’ہم اپنے مینوفیکچرنگ آپریشن میں خود کاری اور مین پاور پر کنٹرول کے عمل کو جاری رکھیں گے، اور ہمیں امید ہے کہ چین میں ہم بڑی تعداد میں اپنی ورک فورس بھی قائم رکھ سکیں گے۔‘

چین کے ڈنگوان شہر میں روبوٹس کی تیاری میں ستمبر 2014 سے لے کر اب تک تقریباً چار ارب یوان کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔

جیانگسو صوبے میں کنشان کا علاقہ الیکٹرانک اشیا کا مرکز ہے جہاں بڑي تعداد میں ایسی مصنوعات تیار کی جاتی ہے۔

اقتصادیات کے ماہرین نے اس بات کے لیے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ روبوٹس کے آنے سے روزگار کے مواقع کس بری طرح متاثر ہوں گے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ماتحت تیار ہونے والی ایسی ہی ایک رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ سنہ 2020 تک تقریباً 35 فیصد نوکریاں روبوٹس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

میکڈونلڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو نے فاکس نیوز کے ایک بزنس پروگرام میں کہا تھا کہ اگر امریکہ میں کم سے کم اجرت فی گھنٹہ 15 ڈالر کر دی گی تو کمپنیاں روبوٹس کا سہارا لینے پر غور کریں گي۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک سست ملازم کو فرینچ فرائیز پیک کرنے کے لیے پندرہ ڈالر فی گھنٹہ دینے سے اس کی جگہ 35 ہزار ڈالر کا روبوٹ خریدنا کافی سستا ثابت ہوگا۔‘

اسی بارے میں