خواتین سے نفرت کے اظہار میں آدھی ٹویٹس خواتین کی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یہ تجزیہ صرف ٹوئٹر کے لیے کیا گیا

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھیجنے جانے والے پیغامات کے تازہ جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین کے خلاف یا ان سے نفرت کے اظہار کے آدھے پیغامات خواتین ہی کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔

ایک تھنک ٹینک ڈیموس نے تین ہفتوں تک دو خاص لفاظ کے استعمال کا تجزیہ کیا جو خواتین سے نفرت کے اظہار کی نشاندہی کرتے ہیں۔

٭ ٹوئٹر کے دس برس میں زندگیاں بدل گئیں

اس تجزیے سے معلوم ہوا کہ عورتوں سے بیزاری وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے اور صرف برطانیہ میں ساڑھے چھ ہزار صارفین کو دس ہزار کے قریب نامناسب ٹویٹس میں نشانہ بنایا گیا۔

ٹوئٹر کے سربراہ جیک ڈورسی کا کہنا ہے کہ گالم گلوچ پر مبنی پیغامات کا سدباب کرنا ان کی ترجیح ہے۔

یہ جائزہ پانچ برطانوی ارکان پارلیمنٹ، اویٹ کوپر، ماریا ملر، سٹیلا کریسی، جو سوینسن اور جیس فلپس کی طرف سے ’ری کلیم انٹرنیٹ‘ یا انٹرنیٹ کو دوبارہ حاصل کرنے کی مہم کےآغاز کے بعد لیا گیا ہے۔

یہ مہم سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے نفرت انگیز خیالات کے اظہار اور گالم گلوچ پر منبی پیغامات شائع کرنے پر عوام میں پائی جانے والی تشویش کے رد عمل میں شروع کی گئی ہے۔

اس مہم کی جانب سے ایک آن لائن فورم بھی کھولا گیا ہے جس میں ان طریقوں پر بحث کی جا رہی ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کو کسی طرح کم جارحانہ، نسل پرستانہ، جنسی تعصب اور ہم جنس پرستوں سے تعصب کے اظہار سے پاک رکھا جائے۔

ایوٹ کوپر نے مہم شروع کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’سچ تو یہ ہے کہ کسی کو علم نہیں ہے کہ درست حل کیا ہے۔ جب مجرمانہ استعمال ہو مثلاً ریپ کی دھمکی دی جائے تو پولیس حرکت میں آتی ہے، لیکن باقی لوگوں کی کیا ذمہ داری ہے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو کیا کرنا چاہیے؟‘

اس کے جواب میں ٹویٹر کی سیفٹی اور ٹرسٹ کی سربراہ کیرا او کونر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نفرت انگیز رویوں کی ٹوئٹر پر کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ اس کے ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘

ڈیموس کے تجزیے میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی دو لاکھ جارحانہ ٹویٹس کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان میں ’بدسلیقہ عورت‘ اور ’بدچلن عورت‘ کے الفاظ شامل تھے اور تین ہفتوں کے عرصے میں ایسی ٹویٹس 80 ہزار لوگوں کو بھیجی گئیں۔

تجزہ کار ایلکس کارسڈومسکی جانز نے کہا کہ یہ جائزہ ایک طائرانہ تصویر پیش کرتا ہےجن سے خواتین کو گزرنا پڑتا ہے اور اکثر بہت تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تجزیہ صرف ٹوئٹر تک محدود تھا جو اپنا ڈیٹا تجزیہ کاروں کو فراہم کرنے میں بڑے فراخدل ہے، بلکہ یہ رویہ سماجی رابطوں کی تمام ویب سائٹوں پر عام ہے۔

انھوں نے کہا ضرورت اس امر کو یقینی بنانے کی ہے کہ تمام ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس بحث میں شامل کیا جائے جس کا مقصد اس برائی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس کا حل نکالنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ انٹرنیٹ کی پولیسنگ یا نگرانی کا ہے لیکن یہ صورت حال یہ باور بھی کراتی ہے کہ لوگ انٹرنیٹ پر اتنی ذمہ داری اور اچھے شہری ہونے کا مظاہرہ نہیں کرتے جتنا وہ ’آف لائن‘ یا عام زندگی میں ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں