بیریئر ریف:’35 فیصد کورلز بلیچنگ سے تباہ ہو چکے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 18 برس میں یہ تیسرا موقع ہے کہ گریٹ بیریئر ریف کو عالمی تپش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بلیچنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے

آسٹریلوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی گریٹ بیریئر ریف کے شمالی اور وسطی حصے میں موجود کم از کم 35 فیصد کورل یعنی مونگے یا مرجان کی رنگ برنگی چٹانیں ’بلیچنگ‘ کے عمل کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔

جیمز کک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے مطابق یہ اس علاقے میں وسیع پیمانے پر بلیچنگ کی ریکارڈ کی جانے والی سب سے شدید اور بری مثال ہے۔

بلیچنگ کے عمل میں ماحول کی تپش کے باعث ریف اپنی رنگت کھو دیتے ہیں اور پانی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث کورل کو رنگت دینے والی ایلجی یا کائی سوکھ جاتی ہے۔

اس عمل کا تعلق عالمی حدت میں اضافے سے جوڑا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تین مرتبہ بلیچنگ کے عمل کا شکار ہونے کے باعث کورلز کی خصوصیات اور اقسام میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے

سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے اور بلیچنگ کے عمل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسمیاتی مظہر ال نینیو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

جے سی یو کے محققین کی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ٹیری ہیوز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے ٹاؤنزویل سے پاپوا نیو گنی تک گریٹ بیریئر ریف کے شمالی اور وسطی حصوں میں جن 84 کھاڑیوں کا جائزہ لیا ان میں سے اوسطاً 35 فیصد کورلز مر چکے ہیں یا مر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 18 برس میں رواں برس تیسرا موقع ہے کہ گریٹ بیریئر ریف کو عالمی تپش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بلیچنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس مرتبہ شدت اب تک کے ریکارڈ شدہ واقعات میں سب سے زیادہ ہے۔

Image caption سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے اور بلیچنگ کے عمل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسمیاتی مظہر ال نینیو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے

خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں آسٹریلیا میں کیے جانے والے ایک وسیع فضائی اور زیر سمندر جائزے کے نتائج میں بھی کہا گیا تھا کہ گریٹ بیریئر ریف کا 93 فیصد حصہ کورل بلیچنگ سے متاثر ہوا ہے۔

سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقے میں مونگے کی چٹانوں کی بحالی کے عمل میں ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

نیشنل کورل بلیچنگ ٹاسک فورس کے مطابق آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کی سیاحت سے سالانہ 3.9 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ 70 ہزار لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔

اسی بارے میں