ساڑھے 24 ہزار بٹ کوائنز کی نیلامی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکام کے مطابق انھیں دو ہزار کے بلاک میں نیلام کیا جائے گا

آسٹریلوی پولیس نے جون میں بٹ کوائنز کے اس ذخیرے کی نیلامی کا فیصلہ کیا ہے جس کی مالیت 80 لاکھ پاؤنڈ کے مساوی بتائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق ان 24،518 بٹ کوائنز کو دو، دو ہزار کے بلاک میں نیلام کیا جائے گا اور بازار میں ہر ایک بلاک کی قیمت چھ لاکھ 80 ہزار پاؤنڈ ہوگی۔

بٹ کوائنز انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے لیے استعمال کی جانے والی ورچوئل کرنسی ہے اور اسے عام طور پر آن لائن غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

نیلامی کی منتظم کمپنی ارنسٹ اینڈ ینگ نے کہا کہ ان بٹ کوائنز کو ’جرم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم‘ قرار دے کر ضبط کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس معاملے میں مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔

ماہرین میں سے ایک کا کہنا ہے کہ حکام نے ان کو فروخت کرنے کا ’محفوظ‘ وقت منتخب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک عرصے سے متبادل کرنسی کے طور پر بٹکوائن کا استعمال ہو رہا ہے

اس سے قبل آسٹریلوی میڈیا نے بتایا تھا کہ آن لائن پر غیر قانونی منشیات کے سلسلے میں پکڑے جانے والے ایک شخص کے بعد پولیس نے سنہ 2013 میں ریاست وکٹوریا میں ساڑھے 24 ہزار بٹ کوائنز ضبط کیا تھا۔

آسٹریلوی اخبار سڈنی مورننگ ہیرلڈ کے مطابق سنہ 2015 میں وکٹوریہ کے ایسٹ کنفسکیشن آپریشن کے محکمے نے تصدیق کی تھی کہ ان کے قبضے میں ساڑھے 24 ہزار بٹ کوائنز ہیں اور وہ اس کا بہترین استعمال کریں گے۔

کیمبرج سنٹر میں متبادل فنانس کے تاریخ داں ڈاکٹر گیرک ہائلمین نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ بٹ کوائنز کی بڑی تعداد ہے اور اتنی تعداد میں بازار میں نئے بٹ کوائنز لانے کے لیے ایک ہفتے تک ان کی تیاری کی ضرورت ہوگی۔‘

ابھی ایک دن میں تقریباً چار ہزار بٹ کوائنز تیار ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ روایتی پیسے کی جگہ آن لائن خریدو فروخت کے لیے ایک عرصے سے بٹ کوائنز کا بطور متبادل استعمال ہو رہا ہے۔

ان ضبط شدہ بٹ کوئن کو ایک بار کی بجائے بلاک میں فروخت کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بازار میں ایک ساتھ اتنے سارے بٹ کوائنز آنے سے مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں