کمپیوٹر سے وائرس ہٹانے کے لیے ہیکرز کو تاوان

Image caption یونیورسٹی آف کیلگری نے یہ رقم اس لیے ادا کی کیونکہ ’رینسم ویئر‘ نامی وائرس سے جس طرح ڈیٹا کو نشانہ بنایا گیا اسے ان کے لیے دوباہ بحال کرنا مشکل ہو رہا تھا

کینیڈا میں ایک یونیورسٹی نے وائرس سے متاثرہ اپنے کمپیوٹرز کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ان ہیکرز کو 20،000 ڈالر کی رقم ادا کی ہے جنھوں نے ڈیٹا کو ناقابل استعمال بنا دیا تھا۔

دی یونیورسٹی آف کیلگری نے یہ رقم اس لیے ادا کی کیونکہ ’رینسم ویئر‘ نامی وائرس سے جس طرح ڈیٹا کو نشانہ بنایا گیا اسے ان کے لیے دوباہ بحال کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

اس وائرس نے ای میلز اور دیگر فائلز پر مشتمل ڈیٹا کو کوڈ میں بدل کر رکھ دیا تھا جس سے اس تک رسائی نہیں ہو پا رہی تھی۔

یونیورسٹی نے ایک مقامی اخبار کو بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ جب اسے ہیکنگ کا نشانہ بنایا گيا تب سے 100 سے زیادہ اس کے کمپیوٹر اس سے متاثر ہوئے۔

یونیورسٹی کی نائب صدر لنڈا ڈیلگیٹی کا کہنا تھا کہ ’یونیورسٹی اب ڈیٹا کو اس کی اصل حالت میں واپس لانے کے عمل کا جائزہ لینے اور اس کا تخمیہ لگانے کے عمل میں ہے۔‘

Image caption رینسم ویئر نامی وائرس اتنا پیچیدہ اور خطرناک ہے کہ سکیورٹی ماہرین اسے جلدی حل نہیں کر پاتے ہیں

ان کا کہنا تھا: ’ڈیکرپشن کے حقیقی عمل میں کافی وقت لگتا ہے اور اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ڈیکرپشن سبھی کمپیوٹرز کو نہ تو خود بخود بحال کرتی ہیں اور نہ ہی ڈیٹا کی بحالی کی ضمانت ہوتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی پولیس اس کیس کی تفتیش بھی کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح ہیکرز کو پیسے دینے سے بلیک میل کرنے کی ایسی کوششوں کو حوصلہ افزائی ہوگی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آيا ہے جب کمپیوٹر کے آلات تیار کرنے والی معروف کمپنی انٹیل نے خبردار کیا تھا کہ رینسم ویئر نامی وائرس خطرناک انداز میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

یہ وائرس اتنا پیچیدہ اور خطرناک ہے کہ سکیورٹی ماہرین اسے جلدی حل نہیں کر پاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

کینیڈا کی یونیورسٹی نے اس سے قبل بعض ان بڑے اداروں کی ہی پیروی کی ہے جو حالیہ مہینوں میں ہیکرز کے پیسہ لینے کے مطالبے کو تسلیم کر چکے ہیں۔

فروری میں ہالی وڈ میں واقع ایک میڈیکل سینٹر نے بھی اپنے کمپیوٹر کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے ہیکرز کو 17،000 ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔

اسی ماہ میں ریاست میساچوسٹس میں محکمۂ پولیس نے بھی 450 ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔

یونیورسٹی کالج آف لندن کے ڈاکٹر سٹیون مورڈرک کا کہنا ہے کہ اداروں کے لیے تاوان ادا کرنا بڑا اچھا لگتا ہے کیونکہ ان کی نظر میں شاید ڈیٹا تک دوبارہ رسائی کے لیے وہی ایک طریقہ ہے۔ لیکن دیگر افراد کے لیے یہی سب سے بڑي خرابی ہوگی کیونکہ اس سے اور بھی ہیکرز کو یونیورسٹی کے طرز پر تاوان حاصل کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کا حوصلہ ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بہتر تو یہ ہوتا کہ کوئی بھی اس کے لیے پیسہ نہیں ادا کرتا حالانکہ اس کی توقع کرنا غیر حقیقی بات ہے۔ جو سب سے بری بات ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایک نئی روایت پڑ رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہیکرز اب اس بات کی بھی دھمکی دیتے ہیں کہ اگر انھیں رقم مہیا نہیں کی گئی تو جو ڈیٹا آپ کے کمپیوٹر سے ملا ہے اسے وہ عام کر دیں گے اور اسی لیے لوگ ان کا مطالبہ ماننے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں