موٹاپے سے ’غذائیت میں کمی کے شکار افراد میں اضافہ‘

ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دنیا بھر میں غذائیت میں کمی کی بڑی وجہ بھوک کے بجائے موٹاپا ہے۔

گلوبل نیوٹریشن رپورٹ کے مطابق دنیا میں 44 فیصد ممالک کو ’غذائیت میں کمی اور موٹاپے‘ جیسے شدید خطرات کا سامنا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ دنیا کے 129 ممالک کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر ایک میں سے تیسرا شخص غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔

عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ بھوکے رہنے والے بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں جس اُن کی نشوونما رک جاتی اور قوتِ مدافعت کم ہو جاتی ہے۔

فاقے اور بھوک غذائیت میں کمی کی اہم وجہ ضرور ہیں لیکن اس میں بہتری آ رہی ہے۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موٹاپا کا شکار افراد کی تعداد بڑھنے سے نیا چیلنج سامنے آ رہا ہے۔ انھوں نے کہا دنیا کے ہر خطے اور تمام ممالک میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’لاکھوں افراد میں غذائیت میں کمی کی بڑی وجہ اُن کا موٹاپا ہے کیونکہ اُن کے خون میں نشاستہ نمکیات اور کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہے۔‘

تحقیق کی سربراہی کرنے والے محقیق پروفیسر کروینا ہوکس کہتی ہیں کہ’دنیا کو غذائیت کی کمی کی تعریف دوبارہ کرنا پڑے گی۔‘

’غذائیت میں کمی کا مطلب ہے بری غذائیت۔ ہر کوئی جس میں مناسب غدائیت نہیں‘

انھوں نے کہا کہ ’ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ چھوٹے رہ گئے ہیں اور زیادہ تیزی سے نہیں بڑھ رہے یا اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کا وزن زیادہ ہے یا آپ کے خون میں شوگر کی مقدار زیادہ ہے جس سے ذیابطیس ہو سکتی ہے۔‘

گو کہ بہت سے مملک نے بچوں میں وزن کی کمی اور نشوونما نہ ہونے کے مسئلے پر کسی حد تک قابو پایا ہے لیکن بہت ہی کم ممالک نے موٹاپے اور اس سے منسلک بیماریوں پر قابو پانے کے لیے میں اقدامات کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزن کی کمی کا شکار پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے مقابلے میں اپنی عمر سے زیادہ وزن والے بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ موٹاپے سے نجات دلانے کے زیادہ رقم مختص کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی عزم پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے مطابق غذائیت کے پروگرام ایک ڈالر خرچ کرنے پر اس کا فائدہ 16 ڈالر کے برابر ہے۔

اسی بارے میں