کیا اولمپکس کھیلوں کو مچھر ’کاٹ‘ رہا ہے؟

ریو ڈی جنیرو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیکا وائرس کی وجہ سے اولمپکس کھیلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے

یہ بات ہی ناقابلِ فہم لگتی ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا ایونٹ ایک مچھر کی وجہ سے خطرے میں ہو، ایڈیز ایجپٹی مچھر۔

چاہے یہ خیال ممکنہ طور پر کتنا ہی بعید از قیاس اور خارج از امکان لگے برازیل کی حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ ریو ڈی جنیرو میں آنے والے کھلاڑیوں اور سیاحوں کو قائل کرے کہ وہ اولمپکس کھیلوں کے دوران بالکل محفوظ ہیں۔ کھلوں کی افتتاحی تقریب پانچ اگست کو ماراکانا سٹیڈیم میں ہو رہی ہے۔

٭ امریکی سائیکلسٹ نے اولمپکس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

٭ ’اولمپکس کھیل ملتوی کرنے کی ضرورت نہیں‘

٭ زیکا وائرس کس طرح پھیلا

برازیل کے وزیرِ صحت رِکارڈو باروس کہتے ہیں کہ ’ہمارے اندازے کے مطابق پانچ لاکھ مہمانوں میں سے ایک کو زیکا وائرس لگنے کا امکان ہے۔‘

رِکارڈو باروس اس عہدے پر صرف ایک ماہ سے ہیں۔ وہ برازیل کی صدر دلما روسیف کے مواخذے کے بعد کابینہ میں اس عہدے پر فائز ہوئے۔ لیکن ان کو معلوم ہے کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح برازیل اور دنیا کو بتانا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس طرح اتنے پراعتماد ہیں کہ زیکا وائرس لگنے کا ’تقریباً صفر‘ امکان ہے جب کہ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ زیکا سے متاثرہ علاقوں میں خواتین حاملہ ہونے سے پرہیز کریں۔

باروس کہتے ہیں کہ اس میں کوئی تضاد نہیں۔

’ہم عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں لیکن ہمارے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس سال پہلے ہی زیکا انفیکشن کی شرح میں 87 فیصد کی کمی آ چکی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس بیماری کی وجہ سے چھوٹے سر کے بچے پیدا ہو رہے ہیں

برازیل میں 15 سو سے زیادہ مائیکروسیفالی کے تصدیق شدہ کیسز ہیں، جن میں حاملہ خواتین کے ہاں بہت چھوٹے سر کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مشورے کہ بعد کہ حاملہ خواتین زیکا وائرس کے متاثر شدہ علاقوں میں نہ جائیں اور یہ کہ اس بات کے بھی ثبوت ملیں ہیں کہ یہ وائرس سیکس یا مچھر کے کاٹنے سے بھی پھیل سکتا ہے کچھ کھلاڑیوں نے ریو 2016 میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

آئرلینڈ گالفر روری مکلروئے اور برطانیہ کی اتھلیٹ جیسیکا اینس ہل نے بھی کہا تھا کہ انھیں ریو جانے کے متعلق تشویش ہے۔

لانگ جمپ میں برطانیہ کی طرف سے 2012 کی اولمپکس کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیتنے والے گریگ ردرفورڈ بھی احتیاط کے طور پر ریو جانے سے پہلے اپنے سپرم منجمد کرانے کا سوچ رہے تھے۔

حال ہی میں 200 سے زائد ماہرینِ تعلیم اور دیگر امور کے ماہرین نے عالمی ادارۂ صحت کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کی تجویز دے کہ ریو اولمپکس کو منسوخ کیا جائے۔

برازیل کی انتھروپولوجسٹ ڈیبوراہ ڈینیز میں ان میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اولمپکس کھیلوں کے لیے پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو برازیل بلانے میں عالمی صحت کا صاف نظر آتا ہے۔

’اس طرح کی وبا کی وجہ سے بچے پیدا کرنے کی عمر والی عورتوں کے لیے ٹھوس خطرہ موجود ہے۔‘

اس طرح کے بیانات کی کئی دیگر ماہرین نفی بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وبا اب قابو میں ہے۔

Image caption عالمی ادارۂ صحت نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں حاملہ ہونے سے پرہیز کریں

ریو کے میئر ایڈورڈ پیئز نے بی بی سی کو بتایا کہ اولمپکس کھیلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کچھ زیادہ ہی شدید ردِ عمل ہے۔

’یہ پاگل پن ہے۔‘

سال کے اس وقت اگست میں موسم کی وجہ سے ڈنگی اور زیکا کے کوئی کیسز نہیں ہیں۔۔۔ میں اس کی اہمیت کم نہیں کرنا چاہتا لیکن یہاں بہت زیادہ مبالغے سے کام لیا جا رہا ہے۔‘

پرانی عادتیں جلد ختم نہیں ہوتیں

ریو کے جنوب میں اولمپک پارک سے تقریباً ایک میل دور صحت عامہ کے اہلکار اپنے نئے یونیفارم میں لوگوں کے گھروں پر دستک دے کر انھیں بیماری پھیلانے والے مچھروں کے خلاف احتیاط برتنے کے اہمیت کے متعلق بتا رہے ہیں۔

ٹیم کے ایک رکن نے مجھے بتایا کہ ’ہم انھیں سکھاتے ہیں کہ کس طرح کھڑے اور گندے پانی کو ڈھانپنا ہے، جہاں ایڈیز مچھر کی افزائشِ نسل ہو سکتی ہے۔

لیکن اس طرح کے علاقوں میں پرانی عادتیں مشکل سے ہی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریو میں زیکا وبا کا خطرہ اب بھی موجود ہے لیکن حکومت اسے کم کرنے کی بھرپور کوشش بھی کر رہی ہے

مقامی رہائشی پاؤلو ہوزے کہتے ہیں کہ ’میں ریپلینٹ یا دافع ادویات استعمال نہیں کرتا، میں نے کبھی بھی نہیں کیں۔‘

جب پاؤلو اہلکاروں کی ہدایات سن رہے تھے تو میں نے 30 سیکنڈ میں کم از کم پانچ مچھر پکڑے اور مارے ہوں گے۔

سفیدی کی ہوئی دیواروں پر خون کے لال نشان پڑے ہیں، جو کہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں مچھر موجود تھے۔

اپنا پیغام پہنچانے میں مشکلات کے باوجود برازیلی حکومت کہتی ہے کہ وہ زیکا اور مچھروں سے پھیلنی والی دوسری بیماریوں کے خلاف لڑائی میں بے مثال ذرائع استعمال کر رہی ہے۔

صرف ریو ڈی جنیرو میں ہی حکومت نے اولمپک اور پیرا اولمپک کھیلوں کے دوران مقامی ہیلتھ نیٹ ورک کو مظبوط کرنے کے لیے 17.5 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ شہر میں زیکا مخالف مہم کے دوران زیادہ ایمبولینسیں، زیادہ ہیلتھ پروفیشنل اور کم از کم 30 ہزار استعمال کیے جائیں گے۔

اولمپکس کھیلوں کو منسوخ کرنا ایک انتہائی اور آخری اقدام ہو گا۔

لیکن کھیلوں کے منتظمین اور ریو شہر کے اہلکاروں کی سب سے بہتر امید انتہائی ٹھنڈے موسم کا جاری رہنا ہے جو کہ ہمیں حال ہی میں برازیل میں دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں