سویڈن میں بالکل نئی قسم کا شہابیہ دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ BIRGER SCHMITZ ET AL
Image caption اس شہابی پتھر کا نام اوسٹرپلانا 65 رکھا گیا ہے

سائنس دانوں نے ایک بالکل نئی قسم کا شہابیہ دریافت کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ آٹھ سینٹی میٹر لمبا خلائی پتھر کیمیائی طور پر ان 50 ہزار شہابیوں سے بالکل مختلف ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں تجربہ گاہوں میں موجود ہیں۔

قدرت کی سالانہ آتش بازی کا مظاہرہ

اس شہابی پتھر کا نام اوسٹرپلانا 65 رکھا گیا ہے۔ یہ سویڈن میں چونے کی کان میں سے ملا ہے۔

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس شہابیے کی پیدائش جس خلائی جسم سے ہوئی اس کی 47 کروڑ سال پہلے مریخ اورعطارد کی بیلٹ میں ایک زوردار ٹکر ہوئی تھی۔

ممکن ہے کہ اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں بہت سی دوسری اقسام کی چٹانوں بھی وجود میں آئی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Birger Schmitz et al
Image caption اس کان سے 100 سے زائد اشیا کی باقیات نکالی گئی ہیں۔ لیکن ارضی کیمیائی لحاظ سے اس شہابی پتھر میں موجود آکسیجن اور کرومیم کا تناسب یکسر مختلف ہے

ڈاکٹر شمٹز کی ٹیم کے مطابق ارضی کیمیائی لحاظ سے اس شہابی پتھر میں موجود آکسیجن اور کرومیم کی مقدار دوسرے شہابیوں سے مختلف ہے۔

ڈاکٹر شمٹز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم 25 سال سے اس ارضیاتی دور کے شہابیوں کی تلاش میں تھے۔ ہمیں 50 عام شہابیے ملے، پھر 60 ملے اور پھر 70 اور اس میں بوریت ہونے لگی تھی۔

’تب 2011 میں ہمیں ایک شہابیہ ملا جو دوسروں سے یکسر مختلف تھا۔ ایک عرصے تک ہم اسے ’پراسرار چیز‘ کہتے رہے کیوں کہ یہ باقیوں سے بالکل مختلف تھا۔‘

خیال ہے کہ یہ نیا شہابیہ اوسٹ 65 دوسرے شہابیے کے ٹکراؤ سے پیدا ہوا۔

سائنس دانوں نے اس کا اندازہ شہابیے کے اندر موجود ایٹموں کی مخصوص تربیت سے لگایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کتنا عرصہ قبل کسی ٹوٹی ہوئی چیز کی سطح پر پہلی بار خلائی شعاعیں پڑی ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Birger Schmitz et al
Image caption ڈاکٹر سکمٹز کے مطابق شہابی پتھر کی پہلی باقیات انھیں کان میں فالتو اشیا کے ڈھیر سے ملی تھی

یہ شعاعیں پڑنے کے بعد بہت زیادہ توانائی کے حامل ذرے ایک خاص قسم کے ایٹم یا آئسو ٹوپس بناتے ہیں اور اس کیس میں ہیلیئم اور نیون بنے۔ جتنے زیادہ یہ مخصوص آئسوٹوپ ہوں گے، اتنی ہی اس جسم کی عمر ہو گی۔

اندازہ ہے کہ کہ یہ ٹکر اسی وقت ہوئی جب ایک اور قسم کے شہابی پتھر ایل کونڈرائٹ وجود میں آئے تھے۔

ڈاکٹر شمٹز کا کہنا ہے کہ اوسٹ65 بھی اپنے ماخذ سے اسی وقت الگ ہوا تھا جب ایل کونڈرائٹ وجود میں آیا تھا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ بظاہر اوسٹ 65 اور ایل کونڈرائٹ ایک ہی ٹکر کے نتیجے میں بنے تھے۔

اسی بارے میں