شہزادی نیشو کی ممی بحال

تصویر کے کاپی رائٹ Hyderabad State Museum

ممبئی کے پرنس آف ویلز میوزیم کے آثار قدیمہ کی مرمت اور بحالی کے شعبے کے سربراہ انوپم شاہ نے کامیابی سے ایک 4500 سال پرانی ممی یعنی حنوط شدہ لاش کی بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔

یہ ممی حیدرآباد کے سرکاری عجائب گھر کی ملکیت ہے اور اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ مصر کے چھٹے فرعون حکمران کی بیٹی شہزادی نیشو کی ممی ہے۔

شہزادی نیشو تقریباً 2500 قبل مسیح پیدا ہوئی تھیں اور ان کی حنوط شدہ لاش 1920 سے اس عجائب گھر میں موجود ہے، لیکن عدم توجہ اور کم علمی کے باعث اس کی حالت خراب ہوگئی تھی۔

ممی پر موجود کپڑا پھٹنا شروع ہوگیا تھا اور ممی کے سینے، چہرے اور کندھوں پر موجود حفاظتی کپڑے کےچھوٹے چھوٹے ٹکڑے ممی سے علیحدہ ہورہے تھے۔

اس ساری صورتحال کے پیشِ نظر خطرہ تھا کہ یہ ممی مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔

اس کی بحالی کے لیے دنیا بھر کے ماہرین سے رابطہ کیا گیا تاہم اس سلسلے میں کوئی مثبت جواب موصول نہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hyderabad State Museum

آخرکار حکام کی جانب سے انوپم شاہ سے رابطہ کیا گیا ، جنھوں نے رواں برس مارچ اور اپریل کے دوران چھ ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کے ہمراہ اس ممی کی بحالی پر کام کیا۔

ٹیم نے کسی کیمیکل کے استعمال کے بغیر ممی پر سے اترنے والی پٹیاں دوبارہ اس پر لگائیں، حیدرآباد میوزیم میں ہی کیا جانے والا یہ عمل کچھ ہفتوں میں مکمل کر لیا گیا۔

شہزادی نیشو کی ممی 1920 سے حیدرآباد میں موجود ہے اور اس کو حیدرآباد کے نواب محبوب علی خان کے داماد نظیر نواز جنگ نے مصر سے خریدا تھا۔

خیال ہے کہ انھوں نے اس ممی کے لیے تقریباً ایک ہزار برطانوی پاؤنڈ ادا کیے تھے۔ بعد میں یہ ممی حیدرآباد کے حکمران خاندان نے عجائب گھر کو عطیہ کردی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کے محکمے کے سربراہ این آر وسیلتچی نے بتایا کہ بھارت میں صرف چھ مستند مصری ممیاں ہیں اور شہزادی نیشو کی ممی ان میں سے ایک ہے۔

انوپم شاہ کے مطابق اس ممی کا بحالی کا کام اس لیے کافی مشکل تھا کیونکہ وہ اس سلسلے میں باقاعدہ اوزار اور عمل جیسے انفرا ریڈ لائٹ، الٹراوائلٹ لائٹ اور رنگوں کے تجزے کے لیے سپیکٹو میٹر کا استعمال نہیں کر سکتے تھے۔

’ یہ بہت نازک تھی اور اس کو ہلانا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ہم نے اندازہ لگایا کہ اس کو مزید نقصان پہنچائے بغیر کیسے بحال کیا جاسکتا ہے۔‘

ممی پر دوبارہ پٹیاں لگانے کا کام تقریباً دس دنوں میں مکمل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hyderabad State Museum

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کو انتہائی حفاظت سے تشخیصی مرکز لے کر گئے جہاں اس کا سی ٹی سکین اور ایکسرے کیا گیا تاکہ نقصان کا اندازہ لگا کر بحالی کا کام مکمل کیا جاسکے۔

مسٹر شاہ کا کہنا ہے کہ شہزادی کی ممی اب بحال ہوچکی ہے اور سٹی سکین اور ایکسرے کی رپورٹس کے مطابق اب وہ ’مکمل فٹ ہیں۔‘

انوپم شاہ کا مزید کہنا ہے کہ اس ممی کو رکھنے کے لیے اب ایک خاص نائٹرورجن چیمبر لیا جا رہا ہے جس کے باعث اس ممی کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

مسٹر شاہ کے بقول یہ ممی ایک قیمتی ورثہ ہے جس کی حفاظت اور اگلی نسلوں تک منتقلی ضروری ہے۔

ان کے بقول ’ممی کے لیے نیا لباس نہیں خریدا جائے گا بلکہ کوشش ہوگی کہ اس کا اصل لباس خراب نہ ہو۔‘

اسی بارے میں