’جونو‘ پانچ سالہ سفر کے بعد مشتری کے مدار میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ NASA
Image caption ناسا کا خلائی مشن جونو پانچ سال قبل روانہ ہوا تھا

امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے اس کا خلائی مشن ’جونو‘ نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل ہو گیا ہے۔

جونو نامی سیٹلائٹ کو پانچ سال قبل زمین سے روانہ کیا گیا تھا اور منگل کو خلائی گاڑی سے ملنے والے سگنلز سے پتہ چلا ہے کہ منصوبے کے مطابق جونو نے اپنی رفتار اتنی کم کر لی کہ مشتری کی کششِ ثقل نے اسے اپنے مدار میں کھینچ لیا۔

کیلیفورنیا میں پاسادینا کے ناسا کنٹرول روم میں ’جونو‘ سے ریڈیو پیغام حاصل ہونے کے بعد خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

جونو مشن کنٹرول نے اعلان کیا: ’جونو کے کو-اورڈ کے تمام سٹیشنوں پر ہمیں ڈیلٹا بی پر جلنے اور علیحدہ ہونے کی آواز ملی ہے۔ راجر جونو کا مشتری پر خیرمقدم ہے۔‘

سائنسدان اس مشن کے ذریعے سیارہ مشتری کے اندر دور تک موجود چیزوں کا احساس کرنا چاہتے ہیں۔

Image caption یہ مشن فروری 2018 تک جاری رہے گا

ان کے خیال میں اس کی اندرونی ساخت اور کیمیائي عوامل اس بڑے سیارے کے معرض وجود میں آنے کا راز رکھتے ہیں۔ ان کے تخمینے کے مطابق یہ ساڑھے چار ارب سال قبل معرض وجود میں آیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق مشتری کے مدار میں داخل ہونے کے لیے جونو کو دس لاکھ ڈینٹل ایکسرے کے برابر تابکاری سے گزرنا پڑا ہوگا۔

انجینیئروں نے پہلے متنبہ کیا تھا کہ جونو کا انجن خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے قبل کوئی بھی خلائی گاڑی مشتری کے اتنے قریب سے گزرنے کی ہمت نہیں کر سکی ہے اور اس کے شدید تابکاری کے علاقے کسی بھی غیر محفوظ الیکٹرانکس کو تباہ کر سکتے ہیں۔

جونو کو ٹاٹینیم شیلڈ کے ایک بکتر بند ٹینک کے طرح بنایا گیا ہے اور 35 منٹ تک اس کے راکٹ کا جلنا بظاہر بغیر کسی پریشانی کے انجام پذیر ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریڈیا سنگل ملنے کے بعد ناسا کے کنٹرول روم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

اگرچہ تابکاری کے خطرات ختم نہیں ہوئے ہیں لیکن اب اس خلائی جہاز کو اپنے آلات کو اس بات کے احساس کے لیے تیار کرنا ہوگا کہ مشتری کے غیر شفاف بادلوں کے نیچے کیا ہے۔

منگل کو مشتری کے مدار میں جونو کے داخلے نے اسے اس کے حلقوں کے گرد پہنچا دیا ہے جہاں سے اسے سیارے کا چکر لگانے میں 53 سے ذرا زیادہ دن لگیں گے۔

رواں برس اکتوبر کے وسط میں دوسری بار جب جونو کا انجن چلےگا تو اس کے بعد یہ خلائی گاڑی صرف 14 دنوں میں مشتری کے گرد چکر لگائے گی۔

خیال رہے کہ مشتری زمین سے 11 گنا چوڑا اور 300 گنا بڑا ہے۔ اسے سورج کے گرد ایک چکر لگانے میں زمین کے 12 برسوں کے برابر وقت لگتا ہے اور وہاں ایک دن دس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

Image caption مشتری زمین سے 300 گنا بڑا ہے

اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو جونو مشتری کی ساخت کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گا۔ اس سے پہلی بار یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا مشتری کا کوئی ٹھوس مرکز بھی ہے یا پھر تمام کا تمام سیارہ گیسوں پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ یہ مشتری کے مشہور سرخ دھبے کی نوعیت کا پتہ بھی چلائے گا۔ یہ دراصل ایک عظیم الجثہ طوفان ہے جو صدیوں سے برپا ہے اور اس کا حجم زمین کے رقبے سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ کششِ ثقل ناپنے والے حساس آلات اس بات کا سراغ لگائیں گے کہ آیا اس سیارے کا کوئی ٹھوس مرکز ہے یا نہیں۔

یہ مشن فروری 2018 تک جاری رہے گا، جس کے بعد جونو مشتری کی فضا کے اندر غوطہ لگا کر ’خودکشی‘ کر لے گا۔

اسی بارے میں