شمسی طیارہ سپین سے مصر کے لیے روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ SOLAR IMPULSE
Image caption اس سے قبل یہ طیارہ امریکی شہر نیویارک سے روانہ ہوا تھا اور بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد سپین کے شہر سیوائل پہنچا تھا

شمسی توانائی سے چلنے والے ہوائی جہاز سولر امپلس ٹو نے اپنی آخری سے پہلے والی اُڑان سپین کے شہر سیوائل سے بھرلی ہے اور اُس کی منزل مصر کا شہر قاہرہ ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والے اِس زیرو فیول ہوائی جہاز کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ اڑتالیس سے بہتر گھنٹوں میں قاہرہ پہنچے گا یہ دورانیہ موسم کی صورتحال پر منحصر ہے۔

قاہرہ پہنچنے کے بعد سولر امپلس ٹو کو دنیا کے گرد چکر لگانے کے مشن کا آخری سفر کرنا ہوگا جو ابو ظہبی تک ہے جہاں سے سولر امپلس ٹو نے دو ہزار پندرہ میں اپنے اِس مشن کا آغاز کیا تھا۔

پوری دنیا کے گرد چکر لگانے کے مشن میں دو پائلٹوں نے باری باری پرواز کی۔ آندرے بوشبرگ سولر امپلس ٹو کو قاہرہ لے جائیں گے جبکہ برٹرینڈ پیکارڈ اُسے آخری منزل تک پہنچائیں

اس سے قبل یہ طیارہ امریکی شہر نیویارک سے روانہ ہوا تھا اور بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد سپین کے شہر سیوائل پہنچا تھا۔

یہ دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم کے دوران اس طیارے کا طویل ترین سفر تھا۔

نیویارک سے سیویل کا سفر طیارے کے عالمی سفر کا 15واں مرحلہ تھا۔

سولر امپلس نے اپنا سفر گذشتہ سال مارچ میں ابوظہبی سے ہی شروع کیا تھا۔ تاہم بیٹریوں میں خرابی کی وجہ سے اسے کافی مدت ورکشاپ میں گزارنا پڑی تھی۔

طیارے کے پائلٹ برٹرینڈ پیکارڈ جو پیشے کے لحاظ سے ایک ماہرِ نفسیات ہیں دنیا کے گرد 35 ہزار کلومیٹر کا سفر سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت آندرے بورشبرگ کے ہمراہ کر رہے ہیں

اسی بارے میں