شمسی طیارہ قاہرہ پہنچ گیا، منزل سے بس ایک قدم دور

تصویر کے کاپی رائٹ SOLAR IMPULSE
Image caption اس پرواز کے دوران سولر امپلس کا سات ممالک اور مصروف ہوائی راستوں سے گزر ہوا

شمسی توانائی کی مدد سے دنیا کے گرد چکر لگانے والا طیارہ ’سولر امپلس‘ اپنی آخری سے پہلی پرواز کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔

یہ طیارہ سپین کے شہر اشبیلیہ سے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق پیر کو چار بج کر 20 منٹ پر روانہ ہوا اور قاہرہ پہنچنے میں اس نے 24 گھنٹے سے ذرا زیادہ وقت لیا۔

اس طیارے کی حتمی منزل ابوظہبی ہے جہاں سے یہ گذشتہ سال مارچ میں دنیا کا چکر لگانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ بغیر ایندھن کے چلنے والا یہ طیارہ اب اپنا سفر مکمل کرنے کے بالکل قریب ہے۔

اس ایک آدمی کی گنجائش والے طیارے کو آندرے بورشبرگ اور برٹرینڈ پیکارڈ نے مختلف مراحل میں باری باری اڑایا ہے۔ اشبیلیہ سے قاہرہ کے سفر کے دوران بورشبرگ اس کے ہوا باز تھے جبکہ اس سفر کا اختتام برٹرینڈ پیکارڈ کریں گے جو طیارے کو قاہرہ سے متحدہ امارات لے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOLAR IMPULSE
Image caption سولر امپلس نے اپنا سفر گذشتہ سال مارچ میں ابوظہبی ہی سے شروع کیا تھا

مصر میں اس مشن کے منتظمین نے طیارے کو انتہائی موافق موسم میں اتارا۔

بی بی سی سائنس کے نامہ نگار جوناتھن ایموس کا کہنا ہے کہ اب انھیں یہ احتیاط برتنا ہو گی کہ جب تک طیارہ قاہرہ میں ہے اس کی شمسی بیٹریوں کو بہت زیادہ گرمی سے بچایا جائے۔

اس سے قبل یہ طیارہ امریکی شہر نیویارک سے روانہ ہوا تھا اور بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد سپین کے شہر اشبیلیہ پہنچا تھا جو دنیا کے گرد چکر لگانے کی مہم کے دوران اس کا طویل ترین سفر تھا۔

سولر امپلس نے اپنا سفر گذشتہ سال مارچ میں ابوظہبی ہی سے شروع کیا تھا، تاہم بیٹریوں میں خرابی کی وجہ سے اسے خاصا عرصہ ورکشاپ میں گزارنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طیارہ سپین کے شہر اشبیلیہ سے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق پیر کو چار بج کر 20 منٹ پر روانہ ہوا تھا

اشبیلیہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز سے قبل بورشبرگ نے کہا کہ اس سفر سے ان کا فطری طور پر جذباتی لگاؤ ہے کیونکہ یہ ان کی آخری پرواز ہو گي۔

انھوں نے کہا ’یہ دنیا کے گرد چکر لگانے کی عظیم مہم کے سلسلے میں میری آخری پرواز ہوگي۔ میں اس کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ ہم خوش ہیں کہ ہم منزل سے قریب ہیں لیکن اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ ابھی سفر تمام نہیں ہوا۔ مجھے اپنی توجہ پوری طرح سے مرتکز رکھنی ہے۔‘

اس پرواز کے دوران سولر امپلس کا سات ممالک اور مصروف ہوائی راستوں سے گزر ہوا۔

اسی بارے میں