’ملیریا کا مچھر مرغی سے بھاگتا ہے‘

مرغیاں
Image caption سائنسدان کہتے ہیں کہ مرغی کی بو کو استعمال کرتے ہوئے مچھر سے بچاؤ کی ادویات بنائی جا سکتی ہیں

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زندہ مرغی کی بو ملیریا سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ایتھوپیا اور سویڈن کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ملیریا پھیلانے والے مچھر مرغیوں اور کچھ دوسرے پرندوں سے بچتے ہیں۔

٭ افریقہ میں ملیریا کے مریضوں میں 50 فیصد کمی

مغربی ایتھوپیا میں کیے جانے والے ان تجربات میں زندہ مرغیوں کو ان جگہوں پر رکھا گیا جن کے قریب ہی رضا کار مچھر دانیوں کے اندر سوتے تھے۔

اقوامِ متحدہ کی تحقیق کے مطابق گذشتہ برس افریقہ میں تقریباً چار لاکھ افراد ملیریا کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے تھے۔

انفیکشن اور شرح اموات تو کم ہو رہی ہیں لیکن صحت کے شعبے میں اہلکار اس بیماری سے بچاؤ کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔

ملیریا کا پیراسائٹ جو ابتدائی طور پر جگر میں چھپ جاتا ہے لیکن بعد خون میں شامل ہو جاتا ہے، مچھروں کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق گذشتہ برس افریقہ میں تقریباً چار لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں

ان سائنسدانوں کی تحقیق جو ملیریا جرنل میں شائع ہوئی، کہا گیا ہے کہ مچھر اپنی سونگھنے کی حس اس جانور کی نشاندہی کرتے ہیں جسے انھوں نے کاٹنا ہوتا ہے، اور لازمی طور پر مرغی کی بو میں کچھ ایسا ہو گا کہ وہ اس سے دور رہتے ہیں۔

ادیس ابابا یونیورسٹی کے بتی تیکی، جنھوں نے تحقیق میں مدد کی، کہتے ہیں کہ مرغی کی بو سے مرکب اکٹھے کر کے مچھروں کو دور بھگانے والے محلول کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیق کے اس مرحلے پر تجرباتی طور پر اس کام کے بارے میں سوچا گیا ہے۔

اس پراجیکٹ میں سویڈش یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسنز کے تحقیق کار بھی شامل ہیں۔

زندہ مرغیوں کے علاوہ مرغیوں کے پروں سے حاصل کیے جانے والے مرکبات بھی ان تجربات میں استعمال کیے گئے ہیں۔

تحقیق کرنے والوں نے دریافت کیا کہ مرغی اور مرکبات کے استعمال سے مچھروں کی تعداد کافی کم ہو گئی۔

اسی بارے میں