’پوکے مون گو کے تمام کریکٹر پکڑ لیے، 12 کلو وزن کم ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption سیم کلارک نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں انھوں نے دکھایا کہ انھوں نے ساؤتھ ہیمٹن اور گوسپورٹ کے علاقوں میں گیم کھیلتے وقت 143 ورچول کرداروں کو پکڑ لیا تھا

کیا یہ پوکے مون گو کے اختتام کا آغاز ہے؟ برطانیہ میں ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پوکے مون کے وہ تمام کردار پکڑ لیے ہیں جو ملک میں دستیاب تھے۔

سیم کلارک نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں انھوں نے دکھایا کہ انھوں نے ساؤتھ ہیمٹن اور گوسپورٹ کے علاقوں میں گیم کھیلتے وقت 143 ورچول کرداروں کو پکڑ لیا تھا۔

٭ پوکے مون کے آنسو شام کے لیے

33 سالہ کھلاڑی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ایپ کی چھ جولائی کو ہونے والی لانچ سے لے کر اب تک ’ہر لمحہ‘ یہ گیم کھیلتے ہوئے گزارا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ گیم کھیلنے کے دوران ان کا وزن 12 کلو گرام سے کم ہوا ہے اور ان کا آخری کریکٹر ایک دکان کے پیچھے ملا تھا۔

لاکھوں کھلاڑیوں کی پسندیدہ اس آن لائن ریالیٹی گیم میں ورچول پوکے مون کے کرداروں کو دنیا بھر کے اصلی مقامات میں جا کر پکڑنا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNIAN
Image caption یہ گیم دنیا میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے

سیم کلارک کا کہنا ہے کہ انھوں نے کم از کم برطانیہ میں دستیاب تمام پوکے مون کے 143 کردار پکڑ لیے ہیں۔

بلکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے صرف امریکہ میں ملنے والا ایک کردار ’ٹوروز‘ بھی پکڑ لیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں ’پورا یقین ہے‘ کہ وہ اس مقام تک پہنچنے والے پہلے برطانوی شہری ہیں اور یہ کہ انھوں نے ان سے پہلے یہاں تک پہنچنے کا دعوہ کسی اور سے نہیں سنا ہے۔

امریکہ کے علاقے بروکلن میں مقیم کلیکٹر نک جانسن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ امریکہ میں پوکے مون کا سیٹ مکمل کرنے والے پہلے امریکی شہری ہیں۔

سیم کلارک فونز کی مرمت کرنے والے انجنیئر ہیں اور گیمنگ کے شوقین۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ساؤتھ ہیمپٹن کے شہر کے باغوں میں یہ پوکے مون پکڑنے کے لیے کئی گھنٹے گزار دیے تھے۔

وہ کہیے ہیں ’میں نے ایس گیم کا 20 سال انتظار کیا ہے۔ ٹیکنالیجی کو یہاں تک پہنچنے میں اتنی دیر لگی ہے۔‘