بلی کے بعد اب گائے کا ڈرون

تصویر کے کاپی رائٹ BART JANSEN
Image caption جانسن کی بلی کا ڈرون۔ انھوں نے اپنی بلی کا نام جہاز کے موجد اورول رائٹ کے نام پر رکھا تھا

نیدرلینڈز کے ایک موجد نے ’گائے ڈرون‘ بنانے پر کام شروع کر دیا ہے۔

بارٹ جانسن پہلے ہی ایک مردہ بلی کا ڈرون بنا کر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

ان کا اگلا مشن انسانوں کو ہوا میں جانوروں پر سواری کرتے دیکھنا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں نہیں جانتا کہ اگلی چیز کیا ہو گی لیکن جو میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں انسانوں کے لیے ہیلی کاپٹر بنانا چاہتا ہوں۔ ایک ایسا ہیلی کاپٹر جس پر آپ بیٹھ کر اسے اڑا سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BART JANSEN
Image caption شارک ڈرون

وہ کہتے ہیں: ’اگر میں کوئی چیز اڑانا چاہوں تو وہ کوئی عجیب و غریب چیز ہو گی۔ اس لیے ہم ایسے جانوروں کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو خاصے بڑے ہوں۔ ہمارے پاس ایک گائے ہے جو اس وقت چمڑے کے کارخانے میں ہے۔ یہ آپ کی ذاتی ٹرانسپورٹ ہو گی جو اڑ سکے۔‘

جانسن نے 2007 میں ایک کتاب کے لیے مردہ جانور اکٹھے کرنے کا آغاز کیا اور پھر ان کی کھالوں میں بھس بھرنے کا کام شروع کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BART JANSEN
Image caption شترمرغ ویسے تو اڑ نہیں سکتا لیکن جانسن اور آرہن نے اسے بھی اڑا کر دکھا دیا

اس کے بعد انھوں نے چوہوں، شارک اور شترمرغ پر مبنی ڈرون بنائے۔

ان کا کہنا ہے: ’ہمیں پہلے سے پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی شکل کیسی ہو گی اس لیے یہ دلچسپ کام ہے۔‘

جانسن انجینیئر آرہن بیلٹمین کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور انھیں دوسرے لوگوں کی جانب سے اپنے پالتو جانوروں کو بھی ڈرون میں منتقل کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

جانسن کہتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے موجد بننا چاہتے تھے۔ ’میں یہ کام صرف ڈرون بنانے کے لیے نہیں کرتا۔ بلکہ مجھے ڈرون یا ریموٹ سے اڑنے والی چیزیں پسند ہی نہیں ہیں۔ یہ کام آرہن کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BART JANSEN
Image caption جانسن سولر پینل نصب کرنے کا کام کرتے ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ ایک دن ان کا ڈرون کا کاروبار چمک اٹھے گا

وہ اپنی مردہ بلی اوروِل کی یادگار بنانا چاہتے تھے۔ ’میں نے بلیڈ سے بلی کی ڈرائنگ بنائی اور خود سے کہا، ’چلو اس سے ہیلی کاپٹر بناتے ہیں۔‘

تاہم دونوں موجد ہر جانور کا ڈرون نہیں بناتے بلکہ بڑی احتیاط سے جانور کا انتخاب کرتے ہیں۔

اورول کا ڈرون بنانے میں 12 ماہ لگے۔ ’میں ایک سال تک اورول پر کام کرتا رہا اور اس پر ڈھائی ہزار یورو کا صرف میٹریل خرچ ہوا۔‘

جانسن سولر پینل نصب کرنے کا کام کرتے ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ ایک دن ان کا ڈرون کا کاروبار چمک اٹھے گا۔

اسی بارے میں