سوشلستان:’قانون توڑیں، انعام پائیں‘

سوشلستان میں پاکستان کا یومِ آزادی کسی نہ کسی ٹرینڈ کی صورت میں اس ہفتے غالب رہا اور سیاسی جماعتوں کی ٹرینڈنگ مشینریاں اس پر ٹویٹس کے انبار لگاتی رہیں مگر اس کے علاوہ سوشلستان میں اور کیا ہوا؟

سعودی عرب میں بے حال پاکستانی

سعودی عرب میں غیر ملکی مزدوروں کے حوالے سے قوانین میں تبدیلی کے بعد عرصے سے بی بی سی کے فیس بُک پر ہم پیغامات وصول کرتے رہے کہ لوگوں کی حالت بہت خراب ہے مگر حکومتِ پاکستان اور حکومتِ ہند کو اس پر ردِ عمل دکھانے میں مہینے لگ گئے۔

اور اس دوران بات فاقوں تک پہنچ گئی بلکہ ہمیں موصول ہونے والی ایک تصویر میں ایک نوجوان نے اپنے آپ کو پھانسی دے دی کیونکہ اس جس ویزے پر ایجنٹ لے کر گیا تھا سعودی عرب میں اس پر کام نہیں ہو سکتا تھا اور یہ نوجوان قرض لے کر سعودی عرب تک پہنچا تھا۔

مہینوں تک بی بی سی کو ملنے والے پیغامات میں جدہ میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے کی نااہلی اور عدم تعاون کی بات مسلسل کی جاتی رہی ہے مگر پاکستانی وزارتِ خارجہ اب حرکت میں آئی ہے۔

سعودی عرب سے بی بی سی اردو کے ایک قاری نے یہ پیغام لکھا۔

’ابھی پانچ چھ ماہ ہوئے تھے یہاں۔ کفیل نے تنازل کسی دوسری جگہ کروانے کا حکم کر دیا تھا اور تنازل دینے کے لیے پیسے مانگے جو اس وقت میرے پاس نہیں تھے اسی غصے میں اس نے میرا حروف لگا دیا ہے اب مجھے پاکستان آنے کے لیے جیل جانا ہوگا اور جیل سے بھی اس کی مرضی اور اجازت سے پاکستان آنا ہوگا۔ اور پھر دوبارہ پانچ سال سعودیہ عرب واپس بھی نہیں آسکتا۔ پلیز ہیلپ۔۔۔

انسان پتا نہیں کس کس سے ادھار پکڑ کر سامان بیچ کر یہاں آتا ہے۔ اب کیسے واپس چلا جائے؟ ایسے کچھ کمائے بغیر۔ اب میں چھپ چھپا کر کام کرتا ہوں۔ مجھے کوئی زیادہ فائدہ نہیں یہاں بس کھانے وغیرہ کے پیسے ملتے ہیں اقامہ کے بغیر کوئی مستقل کام پر نہیں رکھتا۔ میرے جیسے کئی احباب ہیں یہاں پلیز کچھ ایسا ہی کروا دیجیے کے جیل کے بغیر ہم پاکستان چلے جائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

یہاں تنازل سے مراد تبادلہ ہے جو ایک کفیل یا آجر سے دوسرے کے درمیان ہوتا ہے اور حروف سے مراد ایک آجر کی جانب سے سکیورٹی حکام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ایک شخص ملازمت چھوڑ کر چلا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کا ویزا خراب ہوجاتا ہے اور اسے حکام پکڑ کر یا تو جیل بھجواتے ہیں یا ملک بدر کر دیتے ہیں۔

اور مسئلہ صرف ریاض یا دمام میں نہیں بلکہ محمد سعید نے تبوک سے ہمیں ویڈیو پیغام ارسال کیا کہ انہیں کئی مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی اور لیبر کورٹ میں کفیل پیش نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ان کا معاملہ عدالت میں لٹکا ہوا ہے۔

اور ایسے سینکڑوں پیغامات ہیں جو ہمیں سعودی عرب کے مختلف مقامات سے موصول ہوئے ہیں۔

’قانون توڑیں، ڈاکو ماریں انعام پائیں‘

گذشتہ ہفتے سندھ پولیس نے ایک تصویر شیئر کی جس میں انسپیکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ ایک شہری یاسر جمال کو مبینہ طور پر ایسے افراد کو مارنے پر 50 ہزار روپے کا انعام دے رہے تھے جنھیں سندھ پولیس نے اپنے پریس ریلیز جاری کردہ 3 اگست 2016 میں ڈاکو قرار دیا۔

آئی جی سندھ یاسر جمال کو تعریفی سند بھی دی جس پر سوشلستان میں کچھ دیر کے لیے سکتہ طاری ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sindh Police

طفیل ملک نے ٹویٹ کی کہ ’آئی جی سندھ کی جانب سے انعام حاصل کرنا عجیب ہے۔ قانون توڑیں، انعام پائیں۔‘

خرم مصطفیٰ نے لکھا ’ایک قاتل کو انعام دینا بھیانک بات ہے۔ آئی جی سندھ نے بالکل غلط کیا جس پر حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے۔‘

تاہم ایک بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے آئی جی سندھ کے اس اقدام کی تعریف بھی کی۔

کسے فالو کریں؟

پاکستان میں خواتین کے حقوق پر لکھنے والے بہت لوگ ہیں مگر اس حوالے سے تواتر کے ساتھ لکھنے والوں میں عائشہ سروری کا نام آتا ہے جنہوں نے خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے پاکستان کے انگریزی اخبارات میں عرصے سے کالم لکھے ہیں۔

عائشہ نے ایسے مسائل پر بھی بات کی جن پر عموماً کم بات کی جاتی ہے۔ عائشہ کے کالموں پر مشتمل ایک کتاب بھی شائع کی جاچکی ہے۔

اس ہفتے کی تصویر

اس ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں کشمیر کے حوالے سے اور پھر بھارتی وزیرِ داخلہ کی پاکستان آمد کے حوالے سے احتجاج کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسی بارے میں