تین بیماریوں کےلیے ایک دوا کی تیاری میں پیش رفت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ تینوں مرض طفیلی جراثیموں کے جسم میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہیں اور زیادہ تر غریب ممالک کی آبادی کو متاثر کرتی ہیں

بیماریوں پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے پتہ چلایا ہے کہ دنیا کے غریب ممالک میں ایک بڑی آبادی کو متاثر کرنے والی تین بیماریوں کا ایک ہی دوا کے ذریعے علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

بیماریوں پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ چاگاز، لیش اور نیند نہ آنے کی تین بیماریوں کا ایک ہی دوا سے علاج ممکن ہو سکےگا۔

یہ تینوں مرض طفیلی جراثیموں کے جسم میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہیں اور زیادہ تر غریب ممالک کی آبادی کو متاثر کرتی ہیں۔

چاگاز کا مرض کھٹملوں سے انسانوں کو منتقل ہوتا ہے اور اس کے مریض کو نیند بہت آتی ہے۔ لیش کا مریض کو بڑے بڑے پیپ بھرے پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہیں اور یہ بیماری ریت میں پائی جانی والی مکھیوں سے پھیلتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ایک اندازے کےتینوں بیماریوں سے ہر سال پچاس ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں

دنیا کی غریب آبادی کو متاثر کرنے والی ان بیماریوں کے لیے بننے والی اس دوا کو بہت حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ان تین بیماریوں سے ہر سال دو کروڑ افراد متاثر ہوتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق پچاس ہزار افراد ان بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

سائنسی جریدے’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ دوا جانوروں پر 30 لاکھ بار استعمال ہو چکی ہے اور انسانوں پر تجربات شروع کرنے سے پہلے اس دوا کے حفاظتی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیش، چاگاز اور نیند نہ آنے کی بیماریاں ایک جیسے طفیلی جراثیموں کے جسم میں داخل ہونے سے لاحق ہوتی ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ ایک ہی دوا سے اس کا علاج ممکن ہو سکے گا۔

اس سے پہلے بھی ان بیماریوں کے علاج ادویات موجود ہیں لیکن وہ مہنگی ہیں اور ان کے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف یارک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر الماری مے برگ نے کہا ہے کہ یہ دوا اس لیے اچھی ہے کہ وہ تینوں جراثیموں کو ایک وقت میں ٹارگٹ کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسی بیماریوں پر زیادہ رقم اسے لیےخرچ نہیں کی جاتی کہ اس سے متاثر ہونے والےافراد غریب ممالک میں رہتے ہیں۔

ویلکم ٹرسٹ کے سٹیفن کیڈک نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ غربت کا شکار معاشروں میں پھیلنے والی یہ بیماریاں بہت ناگوار اور پریشان کن ہوتی ہیں لیکن اب ہم اس میں پیشرفت کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں