امریکہ انٹرنیٹ ڈومینز پر اختیار سے دست بردار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر نام رکھنے کے نظام پر اختیار سے دست بردار ہو رہا ہے۔ اس سے امریکہ کا اس نظام پر 20 سالہ غلبے کا خاتمہ ہو جائے گا جو انٹرنیٹ پر کنٹرول کا اہم حصہ ہے۔

ڈومین نیمنگ سسٹم یا ڈی این ایس انٹرنیٹ کے اہم ترین اجزا میں سے ایک ہے۔ یہ آسانی سے یاد رکھنے والے ویب ایڈریس، مثلاً bbcurdu.com کو متعلقہ سرور سے منسلک کرتا ہے۔

٭ چینی صدر کا سائبر خودمختاری کا مطالبہ

اگر ڈی این ایس نہ ہوتا تو آپ کو ویب سائٹوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے 194.66.82.10 جیسے آئی پی نمبر ڈالنے پڑتے، جنھیں یاد رکھنا آسان نہیں ہے۔

تاہم ڈی این ایس پر امریکہ کا کنٹرول جان بوجھ کر نہیں بلکہ حالات کے باعث تھا۔

اب امریکہ یہ اختیار ایک غیرسرکاری ادارے Icann یا انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز کے سپرد کر دے گا۔

گذشتہ برس اکتوبر میں ایک ماہر نے کہا تھا کہ آئی کین کو اب ’سلطنت کی چابی‘ مل جائے گی۔ اس کے بعد امریکہ کا غلبہ تو ختم ہو جائے گا، یہ الگ بات کہ آئی کین امریکی شہر لاس اینجلس ہی میں واقع ہے۔

البتہ اس سے ویب صارفین کو کوئی فرق محسوس نہیں ہو گا کیوں کہ آئی کین یہی کام برسوں سے کرتی چلی آئی ہے۔

اس پیش رفت پر کئی امریکی سیاست دانوں نے یہ کہہ کر کڑی تنقید کی ہے کہ اس سے چین اور روس جیسے ملکوں پر ایک ایسے نظام میں دخل اندازی کا دروازہ کھل جائے گا جو ہمیشہ سے ’امریکی حفاظت‘ میں رہا ہے۔

سابق صدارتی امیدوار ٹیڈ کروز سمیت کئی رپبلکن سینیٹروں نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے: ’اس تجویز سے انٹرنیٹ پر بیرونی حکومتوں کی طاقت بہت بڑھ جائے گی۔‘

کیا آئی کین یہ کام خوش اسلوبی سے کر پائے گی؟

آئی کین کو 1998 میں ویب ایڈریس تفویض کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ کام ایک فردِ واحد کیا کرتا تھا جس کا نام جون پوسٹل تھا، جسے ’انٹرنیٹ کا خدا‘ بھی کہا جاتا تھا۔

پوسٹل اس زمانے میں انٹرنیٹ اسائنڈ نمبرز اتھارٹی کے انچارج تھے۔ تاہم وہ آئی کین کے وجود میں آنے کے بعد جلد ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس کے باوجود امریکہ کی نیشنل ٹیلی کمیونیکشنز اینڈ انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (این ٹی آئی اے) کو ناموں کے بارے میں حرفِ آخر کہنے کا حق حاصل تھا۔ یہ ادارہ امریکہ محکمۂ تجارت کا حصہ ہے۔

یہی چیز اکتوبر سے بدل جائے گی اور اب امریکی حکومت این ٹی آئی اے کے ذریعے انٹرنیٹ پر ناموں کے نظام کے معاملات میں دخل نہیں دے سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس اور چین کہتے آئے ہیں کہ امریکہ ڈی این ایس پر کنٹرول اقوامِ متحدہ کے سپرد کر دے

امریکی حکومت شاذ و نادر ہی دخل دیتی تھی۔ ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب آئی کین پورنوگرافی کے لیے xxx کے نام سے ایک نیا ڈومین لانچ کرنا چاہتا تھا، جب کہ امریکی حکومت اس کے خلاف تھی۔ آخر میں یہ ڈومین منظور کر لیا گیا۔

اکتوبر کے بعد سے آئی کین متعدد سٹیک ہولڈرز کے سامنے جواب دہ ہو گی جن میں ممالک، کاروبار اور تنظیمیں شامل ہیں۔

یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر ایلن وڈورڈ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اس کے تحت اب انٹرنیٹ ایک ملک کی حکمرانی سے نکل کر متعدد سٹیک ہولڈرز کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ یہ ایک عالمی اثاثے کے لیے درست عالمی حل ہے۔‘

تکنیکی طور پر امریکہ رضاکارانہ طور پر ایسا کر رہا ہے۔ اگر وہ ڈی این ایس پر اپنا غلبہ برقرار رکھنا چاہتا تو ایسا کر سکتا تھا۔ تاہم اس نے خود تسلیم کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر اختیار سے دست بردار ہونا اس کی بین الاقوامی سفارت کاری کا اہم جز ہے۔

دوسرے ممالک، خاص طور پر روس اور چین اقوامِ متحدہ پر زور دیتے رہے ہیں کہ ڈی این ایس کو اقوامِ متحدہ کی انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے تحت چلایا جانا چاہیے۔

اس بارے میں 2012 میں ایک معاہدے کا مسودہ بھی پیش کیا گیا تھا لیکن امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں تشویش کا ذکر کر کے انٹرنیٹ پر دوسرے ملکوں کے غلبے پر اعتراض کیا تھا۔

اس کی بجائے امریکہ اقوامِ متحدہ کی بجائے آئی کین کو انٹرنیٹ پر اقتدار سونپنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں