گانا گانے سے’انڈوں میں بچوں کی نشوونما تیز‘

تصویر کے کاپی رائٹ Juniors Bildarchiv GmbH Alamy
Image caption ڈاکٹر میریٹی کا کہنا تھا کہ پیدائش سے قبل کا صوتی ماحول ہمارے اندازوں سے زیادہ اثر انداز ہوتا

ایک مطالعے سے پتا چلا ہے کہ موسم کے گرم ہوتے ہی زیبرا فنچ نامی پرندہ اپنے انڈوں کے سامنے گانا گانے لگتا ہے اور اس عمل سے انڈوں میں اس کے بچوں کی نشوونما تیز ہو جاتی ہے۔

اس حیران کن دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پرندے اپنی اولاد کو پیدائش کے بعد درپیش گرم موسم کے لیے تیار کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے ان پرندوں کے انڈوں کو لے کر انھیں مخصوص ماحول میں رکھا اور ان کے لیے پرندوں کے انڈے سینچنے والے گانوں کی ریکارڈنگز بجائیں۔

مخصوص درجۂ حرارت والے انڈوں کے مقابلے میں ان انڈوں میں خلیوں کی نشوونما بہتر ہوئی جن کے لیے یہ گانے بجائے گئے۔

سائنس نامی جریدے میں محققین نے لکھا کہ اس سے جانوروں کو بڑھتے ہوئے عالمی درجۂ حرارت سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

رپورٹ کی مصنف میلینے میریٹی کا کہنا تھا ’لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ان کا تولیدی عمل شدید درجۂ حرارت میں بھی ممکن رہے گا۔ یہ صرف اس حد کے اندر ممکن ہے جس میں وہ فی الوقت رہ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس میں جو بات حوصلہ افزا ہے وہ یہ کہ پرندے درجہ حرات کے اعتبار سے اپنے بچوں کو مطابقت پیدا کرنا سکھاتے ہیں، جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے تھے۔‘

اور یہ بھی پہلی مرتبہ ہے کہ پیدائش سے پہلے ہر بچوں کے لیے گانا گانے کے اس قدر طویل المدتی نتائج سامنے آئے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ان انڈوں میں خلیوں کی نشوو نما بہتر ہوئی جن کے لیے یہ گانے بجائے گئے

اس سے پہلے کی گئی تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ انڈے کے اندر ایمبریوز والدین کی مخصوص آوازیں اور پیغامات پہچانتے ہیں۔

ڈاکٹر میریٹی کا کہنا تھا ’پیدائش سے قبل کا صوتی ماحول ہمارے اندازوں سے زیادہ اثر انداز ہوتا۔‘ انھوں نے سب سے پہلے اس بات پر پہلی مرتبہ تب غور کیا جب وہ اپنی پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔

’میں اس بات پر تحقیق کر رہی تھی کے پرندوں کی جوڑی بحثیت والدین بچوں کا خیال کرنے کے لیے کیا بات چیت کرتے ہیں۔ تب میں نے غور کیا جب کوئی ایک پرندہ تنہا ہوتا ہے تب بھی وہ انڈوں سے بات کرتا ہے۔ ایسے میں اس کی آواز مختلف ہوتی ہے۔‘

تب میں حیران ہوئی کہ ’یہ تو اپنے انڈوں سے بات کر رہے ہیں۔‘

ریکارڈنگ کے دوران میں نے پہلے جس چیز پر غور کیا وہ ان کا ردھم، اونچی آواز تھی۔

’ وہ یہ آوازیں ہر گرم دن میں نہیں نکالتے یہ ایسا تب کرتے ہیں جب ممکنہ طور ہر ایمبریو انھیں سننے کے قابل ہو جاتا ہے۔‘

ان مخصوص آوازوں کا اثر معمول کرنے کے لیے ڈاکٹر میریٹی اوران کے ساتھیوں نے یہ تحقیق کی۔

یہ دیکھا گیا کہ جن پرندوں کو یہ گانے سنائے گئے وہ پیدائش کے بعد گرم مقامات پر بنے گھونسلوں میں گئے۔ ڈاکٹر میریٹی کے بقول ’ایسا لگتا ہے کہ والدین ان بقوں کو درجۂ حرارت سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہے تھے۔‘

اسی بارے میں