رضاکار الزائمر کے ابتدائی مراحل کی تشخیص میں مددگار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانوی محققین کو امید ہے کہ رضاکاروں کی مدد سے الزائمر کی بیماری کے بالکل ابتدائی مراحل کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں کلائی میں باندھنے والے بینڈز سمیت مختلف ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا سکتا ہے جن کی مدد سے یہ رضاکار ابتدائی مرحلے میں ہی اس مرض کی طبعی علامات کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

اس طرح الزائمر کی واضح علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ اور میڈیکل ریسرچ کونسل کی مالی امداد سے تیار کی گئی ہے اور اس کی تیاری میں تقریباً 250 رضاکاروں نے مدد فراہم کی جن میں سابق دانشور پیٹر لنڈن بھی شامل ہیں۔

پیٹر لنڈن میں الزائمر کے جراثیم پائے گئے تھے۔ انھیں امید ہے کہ اس تازہ تحقیق میں ان کی شمولیت کئی مشکل سوالوں کے جوابات تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

پیٹر کو تمام جسمانی اور ذہنی تجزیوں سے گزرنا پڑا تاکہ محققین کو مرض کی شناخت کرنے میں مدد مل سکے اور وہ الزائمر کی ممکنہ ابتدائی علامات کے بارے میں جان کر اس کے موثر علاج کو تلاش سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 2015 میں ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ذہنی خلل کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ تھی

آکسفرڈ یونیورسٹی کی محقق جینیفر لاسن کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ دہائی یا اس سے زیادہ عرصے کے دوران الزائمر کے خلاف کیے جانے والے 99 فیصد طبی تجزیے ناکام رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان لوگوں پر تجزیے کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں جنھیں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی۔‘

نئے منصوبے کے تحت ایک رضاکار ٹرش جونز کا ’گیٹ ٹیسٹ‘ یا چال کا تجزیہ کیا گیا جس کے دوران سستی اور بازو میں پہننے والے مخصوص بینڈز کی صورت میں دستیاب ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔

ٹرش جونز کا کہنا ہےکہ ’اصل میں جب میں عام طور پر چلتی ہوں تو ڈگمگا جاتی ہوں، لیکن تجربہ گاہ میں چلتے ہوئے یہ بالکل ٹھیک ہے نہ ڈگمگا رہی ہوں اور نہ ہی کچھ اور۔‘

محققین کو امید ہے کہ اس منصوبے سے دماغ کو نقصان پہنچانے سے قبل ہی الزائمر کی نشاندہی کے لیے کئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

سنہ 2015 میں لگائے جانے والے ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ذہنی خلل کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ تھی۔

اسی بارے میں