’بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار اسٹیبلشمنٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

سوشسلتان میں اس ہفتے سارے لوگ حب الوطنی پرکھنے کے آلے کے طور پر کام کرتے رہے۔ کون حب الوطن ہے اور کون نہیں اور جو ’پاکستان زندہ باد کا نعرہ‘ نہیں لگائے گا اس کا کیا بنے گا؟

ملک کے ایک معروف ٹی وی چینل کے رپورٹر نے براہِ راست نشریات میں ایم کیو ایم کے رہنما سے سوال کی ا کہ کیا آپ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے؟ مگر چلتے ہیں اس ہفتے کے سوشلستان کی طرف جہاں بڑے اہم موضوعات پر بحث جاری رہی۔

اے آر وائی ، پی ٹی وی پر حملہ اور بائی پولر ڈس آرڈر

اے آر وائی چینل کے دفتر پر بعض ’شرپسندوں‘ کے حملے کے بعد کراچی کا سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلا مگر سوشلستان میں لوگوں نے حیرت سے پوچھا کہ جب پی ٹی وی پر حملہ کیا گیا تو ایکشن لینے والوں نے اتنی سرگرمی کیوں نہیں دکھائی؟

اور یہ سوال پوچھنے والا کوئی اور نہیں بلکہ مریم نواز شریف تھیں جنہوں نے عمران خان کی دھرنے کے دوران تقریر کی ویڈیو لگا کر سوال کیا کہ ’کیا یہ پاکستان مخالف تقریر نہیں تھی؟ کیا یہ غداری نہیں تھی؟ انھیں کون تحفظ دے رہا ہے؟‘

انھوں نے مزید لکھا ’پاکستان ٹیلی ویژن پر حملہ زیادہ سنگین تھا اور غداری کے زمرے میں آتا تھا اور ہمارے میڈیا کا ایک حصہ اس پر خوشی منا رہا تھا۔ مگر وہ ایک غلط روش کی جانب قدم تھا۔‘

نادیہ مرزا نے ٹویٹ کی کہ ’میڈیا پر حملے میں ملوث افراد ضرور گرفتار کریں مگر ایک حملہ پی ٹی وی پر بھی ہوا تھا کتنے رہنما گرفتار ہوئے تھے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کے؟‘

ہدیٰ شاہ نے لکھا کہ ’طاہرالقادری اور الطاف حسین کی تقاریر میں کوئی فرق نہیں صرف اتنا کہ قادری سویلین اور الطاف فوجی سٹیبلشمنٹ کے خلاف بولا۔‘

محسن حجازی نے لکھا ’ایم کیو ایم صرف سات سال پہلے اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی تھی، آج زیرِ عتاب ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ ہی بائی پولر ڈس آرڈر کی مریض معلوم ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Imran Khan

سیاسی مکالمہ ٹوئٹر پر

چونکہ ٹی وی چینلز کا نشریاتی پیٹ ایم کیو ایم اور کراچی کے سیاسی منظرنامے سے پُر ہے اس لیے ہمارے سیاسی رہنما ان دنوں ٹوئٹر پر ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان سوات موٹروے کے افتتاح کے موقع پر لی گئی تصویر ٹویٹ کی کہ ’یہ موٹروے سوات میں سیاحت اور ترقی کا راستہ کھولے گی۔‘

چونکہ پاکستان تحریکِ انصاف سڑکوں، پلوں اور میٹرو کے حکومتی منصوبوں کے بارے میں شدید تنقید کر چکی ہے اس لیے وفاقی وزیر احسن اقبال نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان کو ٹیگ کر کے لکھا ’امید ہے کہ تمام سکولوں اور ہسپتالوں کے مسائل حل ہو چکے ہوں گے۔ اسی لیے کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو کیونکہ کسی بھی وقت آپ کے اپنے کہے ہوئے الفاظ آپ کے گلے پڑ سکتے ہیں۔‘

کسے فالو کریں؟

دنیا میں لاکھوں ایسے افراد ہیں جو روزانہ بھوک کا شکار ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب ریستوران اور عام شہری بڑی تعداد میں خوراک ضائع کرتے ہیں۔

رابن ہُڈ آرمی ایک ایسی ہی رضاکارنہ تحریک ہے جو ریستورانوں سے اضافی کھانا لے کر اسے ضروت مند افراد تک پہنچاتی ہے۔

اس تحریک کا آغاز انڈیا سے کیا گیا جو اب انڈیا کے 16 شہروں پاکستان کے تین شہروں لاہور، اسلام آباد اور کراچی جبکہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ تک پھیل چکا ہے۔ آپ بھی ان کی ویب سائٹ پر جا کر یا ان کے فیس بُک پیج پر جا کر اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

فرانس میں برقینی کے خلاف قوانین دنیا بھر میں موضؤعِ بحث ہیں جس میں فرانس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ VINTAGENEWS

سابق فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی کے بیان پر کہ برقینی کو ’اشتعال انگیزی‘ قرار دیا جس پر معروف مصنفہ جے کے رولنگ نے لکھا ’عورت اپنے جسم کو ڈھانپے یا نہ ڈھانپے ہمیں لگتا ایسے ہے کہ ہر وقت ’اکسا رہی ہوتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ KHALIDALBAIH
Image caption خالد البیہ کا کارٹون جس میں برقع پہنانے والوں اور برقینی اتارنے والوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا گیا ہے

اسی بارے میں