اعتراضات کے بعد فیس بک ٹرینڈنگ کی جانچ پڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ بائیں بازوں کی جانب سے ہونے والے اعتراضات کے بعد وہ ٹرینڈنگ کے فیچر کا مکمل جانچ پڑتال کر رہی ہے۔

فیس بک کے ایک ارب 70 کروڑ صارفین بھی اب سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کسی خبر یا موضوع کو دیکھ سکیں گے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے تحت موضوعات کی تفصیل لکھنے کے لیے اداریاتی سٹاف کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

رواس سال کے آغاز میں فیس بک پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ قدامت پراست نقطعہِ نظر کو دباتی ہے اور رپبلکن جماعت کے خلاف شکایات کو بڑھاوا دیتی ہے۔

ایک سابق صحافی جو اب کمپنی سے وابستہ ہیں، نے فیس بک کے ملازمین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’باقاعدگی سے اُن خبروں کو سامنے نہیں آنے دیتے جن میں قدامت پسند قارعین کی دلچسپی ہوتی ہے۔‘

ایک بلاگ پوسٹ میں فیس بک کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں کسی بھی قسم کے تعصبانہ کے شواہد نہیں ملے ہیں۔‘

لیکن فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ ایسی تبدیلیاں متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت ہماری ٹیم ’عنوانات کے بارے بہت کم فیصلہ کرے گی۔‘

فیس بک کے مطابق صارفین ابھی زیادہ تر ’پرسنلایئزڈ خبریں‘ ہی دیکھ سکیں گے لیکن اس کے الفاظ بہت عام فہم ہوں گے اور یہ دیکھا جائے گا کہ کتنے لوگ اس موضوع پر بات کر رہے ہیں۔

سٹاف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ جو پوسٹ کی گئی ہے وہ اُسی موضوع کے بارے میں ہے اور تازہ ترین خبر پر مبنی ہے یا نہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ’فیس بک پر تمام خیالات پر بات ہو سکتی ہے اور ہم اس کا وعدہ کرتے ہیں کہ ٹرینڈنگ کو متعارف کروانے سے کئی افراد کو اُن موضوعات پر کھل کر بات کا موقع ملے گا۔‘

یاد رہے کہ جیسے جیسے فیس بک کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ویسے فیس بک کی غیر جانبداری کو جانچنے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں