تیز ترین فور جی نیٹ ورک کا ’نیا ریکارڈ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

فِن لینڈ کی ایک موبائل کمپنی نے دنیا میں تیز ترین فور جی نیٹ ورک سپیڈ کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

موبائل کمپنی ایلیسا نے کہا ہے کہ اس نے ایک ٹیسٹ نیٹ ورک پر 1.9 گیگا بائٹ فی سیکنڈ سپیڈ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو اس کے دعوے کے مطابق، تیز ترین سپیڈ کا ریکارڈ ہے۔

اگر اس دعوے کو ٹھیک مان لیا جائے تو یہ انتہائی تیز انٹر نیٹ سروس ایک بلُورے فلم کو 44 سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کر سکتی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں نے اس دعوے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ایک لائیو اور حقیقی نیٹ ورک پر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔

ایلیسا کا کہنا ہے کہ اس نے چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی مہیا کردہ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے دو گیگا بائٹ فی سیکنڈ کے سنگِ میل کے قریب ترین سپیڈ حاصل کی ہے۔

اس کے مقابلے میں کسی بھی کمرشل نیٹ ورک پر تیز ترین سپیڈ تین سو میگا بائٹ فی سیکنڈ ہے جو اس سے چھ گنا سے بھی کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption فروری میں ایک یونیورسٹی ریسرچ ٹیم نے ایک ٹیرا بائٹ فی سیکنڈ کی فائیو جی موبائل سپیڈ کا تجربہ کیا تھا

تاہم فروری میں ایک یونیورسٹی ریسرچ ٹیم نے ایک ٹیرا بائٹ فی سیکنڈ کی فائیو جی موبائل سپیڈ کا تجربہ کیا تھا اور ایلیسا کی فور جی سپیڈ سے 50 گنا زیادہ ہے۔

اس سپیڈ کے کمرشل استعمال کے بارے میں ایلیسا کے چیف ایگزیکٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اگلے دو سے تین سال کے دوران فِن لینڈ میں ایک گیگا بائٹ فی سیکنڈ کا پریمیئم نیٹ ورک شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری طرف دو تجزیہ کاروں نے اس ریکارڈ سپیڈ کے حقیقی دنیا میں استعمال پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ٹوٹل ٹیلی کام کے اسسٹنٹ ایڈیٹر نِک ووڈ نے کہا ہے کہ ایک اعشارہ نو گیگا بائٹ فی سیکنڈ نیٹ ورک قائم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ صارفین اس رفتار کا موبائل براڈبینڈ حاصل کر سکیں گے۔

یو سوئچ کے ٹیلی کام ماہر ارنیسٹ ڈوکُو نے کہا کہ برطانیہ میں موجود ٹیلی کام ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل قریب میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔