آلودگی کے ذرّات کی انسانی دماغ تک رسائی

Image caption نئی تحقیق سے پہلی بار ایسے شواہد ملے ہیں کہ آلودگی دماغ تک رسائی حاصل کر لیتی ہے

ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دماغ کے ریشوں کے بعض نمونوں میں آلودگی کے باریک ذرّے ملے ہیں۔

محققین کو شک ہے کہ آلودگی کا شکار دماغ میں آئرن آکسائیڈ کے یہ ذرے الزائمر جیسے بیماریوں کا باعث بنتے ہیں تاہم اس حوالے سے شواہد کی کمی ہے۔

٭ ایک شخص کے دماغ سے زندہ کیڑا برآمد

٭ ’آلودہ آلاتِ جراحی کے استعمال سے ایلزہائمر کا خدشہ‘

محققین نے ان نتائج کو ’خوفناک حد تک حیران کن‘ قرار دیا ہے۔ اور اس سے فضائی آلودگی کے سبب صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

اس سے پہلے کیے گئے مطالعات میں فضائی آلودگی کے پھیپھڑوں اور دل پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔

نئی تحقیق سے پہلی بار ایسے شواہد ملے ہیں کہ آلودگی دماغ تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔

اس سال کے اوائل میں عالمی ادراۂ صحت نے خبردار کیا تھا کہ فضائی آلودگی سالانہ 30 لاکھ وقت سے پہلے ہونے والے زچگیوں کا سبب بن رہی ہے۔

صرف برطانیہ میں ہی سالانہ 50000 لوگ آلودہ فضا سے جڑے مسائل کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

لانکیسٹر یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق پروسیڈنگ آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسیز (پی این اے ایس) میں شائع کی ہیں۔

ٹیم نے 37 افراد کے دماغ کے ریشوں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے 29 میکسیکو سٹی میں مقیم رہے اور وہیں انتقال ہوا۔ یہ جگہ آلودگی کے لیے بدنام ہے جبکہ باقی 8 افراد کا تعلق مانچسٹر سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption صرف برطانیہ میں ہی سالانہ 50000 لوگ آلودہ فضا سے جڑے مسائل کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں

اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہر بابرا نے اس سے پہلے لانکسٹر کے قریب ایک مصروف سڑک پر ایک بجلی گھر کے قریب فضا میں مقاطینسی ذرات کا پتا چلایا تھا۔

ان کو شک تھا کہ ایسے ذرّات شاید دماغ میں بھی ہو سکتے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔

ان کا کہنا تھا ’یہ خوفناک حد تک حیرت انگیز تھا کہ مطالعے دوران ہم نے دیکھا کہ آلودگی کے ذرات خلیوں کے درمیان پھیلے ہوئے ہیں اور جو آپ اس میں سے مقناطیسی ذرات الگ کرتے ہیں تو یہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ لاکھوں اور وہ بھی ایک گرام دماغی ریشوں میں۔ اور یہی دماغ کو نقصان پہنچانے کے لاکھوں مواقع بھی ہیں۔‘

مزید تحقیق سے پتا چا کہ ان ذرات کی اپنی ایک شکل و ہیئت ہے جس کی وجہ سے ان کی وجہ کا تعین کرنا آسان ہوا۔

مقناطیسی ذرات دماغ میں قدرتی طور پر بھی بنتے ہیں ان رات کے دندانے ہوتے ہیں۔

لیکن اس تحقیق میں پائے جانے والے مقناطیسی ذرات لاتعداد اور گول تھے۔ اور ساخت کے اعتبار سے وہ ایسے ذرات ہیں جو گاڑی کے انجن جیسے گرم دراجہ حرارت میں بنتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں