لندن میں طاعون کی عظیم وبا کی وجہ دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Crossrail
Image caption لیورپول سے ملنے والے ڈھانچوں میں ’یرسینیا پیسٹس‘ نامی بیکٹیریا کا ڈی این اے ملا جو طاعون کا باعث بنا تھا

ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بیکٹریا کی شناخت ہو گئی ہے جو لندن میں طاعون کی عظیم وبا کا باعث بنا تھا۔

سنہ 1665 اور 1666 کے درمیان برطانیہ میں طاعون کی وبا پھیلنے سے تقریباً ایک لاکھ افراد مارے گئے تھے جو اس زمانے میں لندن کی آبادی کا ایک تہائی حصہ بنتا تھا۔

لیورپول میں تعمیراتی کام کے دوران طاعون کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کا ممکنہ قبرستان دریافت ہونے کے بعد اس بات کی تصدیق کرنے میں کم سے کم ایک سال لگ گیا۔

اس مقام پر کھدائی کے دوران ایسے افراد کی 3500 قبریں سامنے آئیں۔

18ویں صدی میں اس طاعون سے متعلق ایک مضمون میں شامل مصنف ڈینیئل ڈیفو کی اپنی آپ بیتی میں اس تباہ کن دور کو اہلِ لندن کے لیے ہولناک وقت قرار دیا گیا ہے۔

’ویسے تو تمام متعدی بیماریوں کی طرح یہ طاعون بھی مختلف لوگوں کی طبیعتوں پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتا ہے۔ بعضوں پر اس نے فوراً ہی اثر دکھا دیا، اور انھیں شدید بخار، قے، ناقابلِ برداشت سردرد، کمر درد ہوا اور وہ درد کے مارے تڑپنے اور کراہنے لگے۔

’کچھ لوگوں کو سوجن ہو گئی اور گردن، ران اور بغلوں میں پھوڑے بن گئے جس کی وجہ سے انھیں بےپناہ اذیت ہوئی۔ دوسری طرف کچھ ایسے بھی تھے جو خاموشی سے اس کا شکار ہو گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive
Image caption مصنف ڈینیئل ڈیفو نے اپنی آپ بیتی میں اس تباہ کن دور کو اہلِ لندن کے لیے ہولناک وقت قرار دیا ہے

لیکن مرض پیدا کرنے والے اصل جرثومے کی شناخت ایک عرصے تک معمہ رہی۔

لندن کے آرکیالوجی میوزیم کی اہلکار ایلیسن ٹیلفر نے بی بی سی کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو بتایا ’ہمیں اس مقام سے ساڑھے تین ہزار قبریں ملی ہیں۔ ہم وہاں پچھلے ساڑھے پانچ سال سے یہاں کام کر رہے ہیں اور ہمیں امید تھی کہ ہمیں بیشتر افراد میں طاعون کے نشانات ملیں گے۔

’تمام ڈھانچوں کی پوزیشن سے ظاہر ہے کہ انھیں عزت و احترام سے تابوتوں میں رکھ کر دفنایا گیا تھا، حالانکہ وہ صدمے کی صورتِ حال تھی لیکن پھر بھی کسی کو گڑھوں میں نہیں پھینکا گیا۔‘

برکبیک میں لندن کی تاریخ کی پروفیسر ونیسیا ہارڈنگ اہلِ لندن کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں ’اس کا شکار ہونے والے اکثر لوگ بچ نہیں پائے لیکن کچھ تھے جو بچ گئے اور اگر ہم اس کے پھیلنے کی وجہ کے بارے میں نہ جانتے ہوں تو یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے کو باآسانی لگ سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت انھوں نے عوام کی صحت کے لیے کچھ اقدامات کیے جن میں کتوں اور بلیوں کو مارنا اور سڑکوں سے بھکاریوں کو ختم کرنا شامل تھا۔ یہ سب شہر کو صاف کرنے کے لیے اخلاقی اور عملی اقدامات کے طور پر کیا گیا۔ ان میں سے بہتر وہ لوگ رہے جو لندن سے نکل گئے۔‘

لیورپول سے ملنے والے ڈھانچوں کی جانچ مائیکل ہینڈرسن نے کی جو ان میں ’یرسینیا پیسٹس‘ نامی بیکٹیریا کو تلاش کر رہے تھے جو طاعون کا باعث بنا۔

انھوں نہ بتایا ’انھیں احتیاط سے الگ الگ ڈبوں میں بند کیا گیا ہے۔ ہم تمام اعضا، ٹانگیں، بازو، کھوپڑی اور دیگر ہڈیاں الگ الگ کر رہے ہیں۔‘

’ہمیں کھدائی کے مقام پر ساڑھے تین ہزار ڈھانچے ملے جو اب تک کا سب سے بڑا آثارِ قدیمہ کا مقام ہے۔ اتنا وسیع ڈیٹا سے ہمیں یقیناً اہم معلومات فراہم ہونا ہی تھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس مقام پر کھدائی کے دوران ایسے افراد کی 3500 قبریں سامنے آئیں

ایک ڈھانچے سے دانت نکال کر جرمنی کے تحقیقی ادارے میں ڈی این اے کے تجزے کے لیے بھجوائے گئے۔

مائیکل ہینڈرسنکا کہنا تھا: ’ڈی این کے لیے بھیجنے جانے والی بہیترین چیز دانت ہیں جو کسی ٹائم کیپسول کی طرح ہیں۔‘

جرمنی میں ماہر امراض کرسٹین بوس نے دانت کا گودا نکال کر 17ویں صدی کے بیکٹریا کی تلاش شروع کی اور بالآخر انھیں اس مقام سے حاصل کیے گئے 20 افراد کے دانتوں سے اس کے مثبت نتائج مل گئے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمیں ڈی این اے کے واضح نشانات ملے اور ہم اس چیز کا تعین کرنے کے قابل ہوئے کہ اس وقت مرنے والوں کے جسم میں ’یرسینیا پیسٹس‘ جرثومہ موجود تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم نہیں جانتے کہ لندن میں پھوٹنے والے طاعون کی وہ وبا برطانیہ میں اس بیماری کی آخری بڑی وبا کیوں تھی، اور یہ کہ ماضی میں کیا اس میں کوئی جینیاتی فرق تھا۔ ہم قدیم حیاتیات کے نمونوں سے مزید جینیاتی معلومات اکٹھا کر کے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ماہر امراضایات کرسٹین بوس اور ان کیٹیم اس ڈی این کے کی مکمل معلومات کی مدد سے اس بیماری کے پیدا ہونے اور پھیلنے کی وجوہات معلوم کریں گے۔

تاہم وہ لوگ جو اس بات پر پریشان ہیں کہ کھدائی کے کام یا تحقیقات کے نتیجے میں یہ بیکٹیریا دوبارہ تو نہیں نکل آئے گا، ان کے معلومات کے لیے ہم بتاتے چلیں کہ یہ جرثومہ زمین میں زندہ نہیں سکتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں