ڈائنوسار کی جلد پر رنگین نمونے دریافت

Image caption ڈائنوسار کا ماڈل بنانے کے لیے قدیم حیات کے ماہر ایک آرٹسٹ نے سائنس دانوں کی مدد کی

سائنس دانوں نے ایک ڈائنوسار کی کھال پر رنگوں کے نمونے دریافت کیے ہیں جو آج کے دور کے جانوروں کے کیموفلاج کی مانند ہیں۔

بہترین حالت میں محفوظ شدہ ایک چینی فاسل سے ظاہر ہوتا ہے اس جانور کے جسم کا نچلا حصہ ہلکے، جب کہ اوپری حصہ گہرے رنگ کا تھا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جانور کسی ایسی جگہ رہتا تھا جہاں روشنی منتشر ہوتی ہے، مثلاً کسی جنگل میں۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ایک آرٹسٹ کے ساتھ مل کر اس جانور کا تھری ڈی ماڈل تیار کیا۔

یہ تحقیق کرنٹ بایالوجی نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف جیکب ونتھر کہتے ہیں کہ اس ڈائنوسار میں کیموفلاج کے نمونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی مدد سے اسے شکاریوں سے چھپنے میں مدد ملتی ہو گی۔

اس ڈائنوسار کا نام سیٹاکوسارس (Psittacosaurus) ہے، جس کا مطلب بنتا ہے ’طوطے کی چونچ والا۔‘ وجۂ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی چونچ طوطے سے ملتی جلتی ہے۔

اس سے قبل سائنس دانوں نے ڈائنوساروں کے بعض فاسلز میں میلانوسوم دریافت کیے تھے۔ ان غدودوں میں میلانِن رنگ بنتا ہے جو کئی جانوروں کے پروں اور جلد کو رنگ دیتا ہے۔

Image caption اس ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ڈائنوسار کو اپنی جلد کے نمونے کی وجہ سے شکاری جانوروں سے بچنے میں کیسے مدد ملتی ہو گی

تحقیق کاروں نے ایک ماڈل بنایا اور پھر رنگوں کے نمونے اس پر منطبق کر کے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ اس کی مدد سے اس ڈائنوسار کو کس طرح اپنے آپ کو چھپانے میں مدد ملتی ہو گی۔

اس کام میں آرٹسٹ باب نکلز نے ان کی مدد کی۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ خاصا مشکل کام تھا، تاہم اب ہم جانتے ہیں کہ یہ ڈائنوسار کیسا دکھائی دیتا تھا۔‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی ڈائنوسار کا سب سے درست رنگین ماڈل ہے۔

یہ ڈائنوسار آج سے 13 تا 12 کروڑ سال قبل شمال مشرقی چین میں پایا جاتا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں